اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

’’آسان کاروبار کارڈ‘‘کون اہل ہے،اپلائی کس طرح کیا جائے

datetime 15  اپریل‬‮  2025 |

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت “آسان کاروبار کارڈ” اور “آسان فنانس اسکیم” کی پیشرفت کا جائزہ اجلاس

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کاروباری سہولیات کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی ’’آسان کاروبار کارڈ‘‘ اور ’’آسان کاروبار فنانسنگ‘‘ اسکیموں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں عوامی سطح پر درپیش رکاوٹوں اور ان کے حل سے متعلق مختلف امور پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ جن درخواست گزاروں کو اپنے بینکنگ یا رجسٹریشن سے متعلق مسائل کا سامنا ہے، وہ چند سادہ اقدامات سے ان کا حل نکال سکتے ہیں، جیسے کہ نادرا کے ساتھ ذاتی معلومات کی اپڈیٹ، موبائل نمبر کی CNIC سے تصدیق، یا محکمہ ایکسائز کے واجبات کی ادائیگی۔

درخواست کی جانچ کا طریقہ کار

مرحلہ اول:
درخواست گزار سب سے پہلے “آسان کاروبار کارڈ” کے آفیشل پورٹل پر جائیں اور لاگ ان آئیکون پر کلک کریں۔ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور پاس ورڈ داخل کر کے اپنے اکاؤنٹ میں سائن ان کریں۔

مرحلہ دوم:
لاگ ان کرنے کے بعد اپنی جمع کرائی گئی درخواست کے فارم تک رسائی حاصل کریں، جہاں مکمل تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔

مرحلہ سوم:
فارم کے اوپری حصے میں آپ کو اپنی درخواست کی موجودہ حیثیت دیکھنے کو ملے گی، جیسے کہ:

  • “درخواست پر کارروائی جاری ہے”

  • “درخواست کی توثیق ہو چکی ہے”

  • اگر کوئی مسئلہ ہو تو خرابی کا پیغام بھی ظاہر کیا جائے گا۔

درخواست کا مکمل طریقہ کار

  1. اکاؤنٹ رجسٹریشن:
    اپنے شناختی کارڈ سے منسلک موبائل نمبر کے ذریعے پنجاب آئی ٹی بورڈ کے پورٹل پر خود کو رجسٹر کریں۔

  2. فارم پُر کرنا:
    درخواست فارم بھرنے کے لیے کم از کم 15 منٹ درکار ہوں گے۔

  3. پروسیسنگ فیس جمع کروانا:
    درخواست کے ساتھ فیس بھی جمع کروانی ہوگی:

  • ٹائر 1 کے لیے 5,000 روپے

  • ٹائر 2 کے لیے 10,000 روپے (یہ فیس ناقابل واپسی ہے)

  1. دستاویزات جمع کروائیں:
    تمام مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کر کے فارم جمع کرائیں۔

  2. اسٹیٹس ٹریک کریں:
    درخواست گزار کو رجسٹریشن نمبر اور SMS کے ذریعے اپ ڈیٹس دی جائیں گی۔

اہل ہونے کے لیے شرائط

درخواست دینے کے لیے درج ذیل نکات پر پورا اترنا ضروری ہے:

  • عمر کی حد 21 سے 57 سال کے درمیان ہو۔

  • قومی شناختی کارڈ اور موبائل نمبر رجسٹرڈ ہونا چاہیے۔

  • کاروبار پنجاب میں قائم ہو یا اس کے قیام کا منصوبہ ہو۔

  • درخواست گزار ٹیکس فائلر ہو اور کریڈٹ ہسٹری صاف ہو۔

  • رہائش اور کاروباری پتے کے ثبوت اور حوالہ جات مہیا کیے جائیں۔

اس کے علاوہ، ایسے چھوٹے کاروبار جن کی سالانہ آمدن 15 کروڑ روپے تک ہو اور درمیانے درجے کے وہ کاروبار جن کی سالانہ آمدن 15 کروڑ سے 80 کروڑ روپے کے درمیان ہو، اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…