برلن(نیوزڈیسک)معروف جرمن جریدے نے کہاہے کہ جرمن خفیہ ادارے بی این ڈی نے غیرملکی سفارت خانوں اور یورپی محکموں کے علاوہ دیگر ساتھی ممالک کی جاسوسی کی، جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل نے اپنی آن لائن رپورٹ میں لکھا کہ جرمن خفیہ ایجنسی بی این ڈی نے فرانسیسی اور امریکی محکموں تک کی خفیہ طور پر نگرانی کی ۔بی این ڈی نے جاسوسی میں صرف این ایس اے کی فہرست کی پیروی نہیں کی بلکہ بی این ڈی نے اس سلسلے میں کچھ اپنی اصلاحات بھی استعمال کی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ بی این ڈی کی طرف سے اس جاسوسی کا مقصد بحران زدہ ممالک کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا تھا۔ خفیہ نگرانی کے ان نئے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد برلن حکومت کی طرف سے وفاقی پارلیمان کی ایک نگران کمیٹی کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپوٹس کے مطابق پارلیمانی کمیٹی اب اگلے ہفتے بدھ کے روز اپنے کچھ ارکان کو بی این ڈی کے مرکزی دفتر بھیجے گی تاکہ اس بات کا پتا لگایا جا سکے کہ جاسوسی کے لیے کون کون سی اصلاحات استعمال کی گئی ہیں اور کن کن اداروں کی نگرانی کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ ارکان بی این ڈی کے اہلکاروں سے بھی بات چیت کریں گے۔ ڈیئر اشپیگل کے مطابق اس سلسلے میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی کہ خلاف قانون اس کارروائی کا کس کس کو علم تھا اور کس کے ایماء پر ایسا کیا گیا۔
جرمنی نے امریکہ سے ”ہاتھ“ کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































