منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

پنجاب میں”سٹیل مل “لگانے کی تیاریاں

datetime 15  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک)صوبائی وزیرمعدنیات و معدنی وسائل چوہدری شیرعلی نے کہا ہے کہ جلد ہی پنجاب میں سٹیل مل لگائی جائے گی جس سے روزگار کے نئے مواقع ملنے کے ساتھ مقامی آئرن اوور کو قابل استعمال لایا جا سکے گا۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روزچوتھی انڈسٹریل منرلز سٹیل اینڈڈاو ¿ن انجینئرنگ انڈسٹریل کانفرنس اینڈ ایگزبیشن پاکستان دوہزار پندرہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔صوبائی وزیرمعدنیات نے کہا کہ کوئلے سے بجلی بنانے کے لئے ایک ہزار تین سو میگاواٹ کے پاورپلانٹ پرتیزی سے کام جاری ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ پچاس سال سے پنجاب کی زمینوں میں چھپے اربوں ڈالر مالیت کے معدنیات کو استعمال نہیں کیا گیا،اگرسابقہ حکومتیں ان معدنیات کو نکال کر ویلیوایڈ کرتیں تو ملک ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹیل کو جلدازجلدنجکاری میں دے دینا چاہیئے تاکہ نجی شعبہ اسے بہترطریقے سے چلاسکے۔ اس موقع پر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹوآفیسرطارق اعجاز چودھری نے کہا کہ حکومت شعبہ انجینئرنگ کی ترقی کے لئے انتھک محنت کر رہی ہے لیکن نجی شعبے کو چاہئے کہ معمول سے ہٹ کر ویلیوایڈ کی طرف جائیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی مصنوعات کو بیرونی منڈیوں میں برآمد کریں۔انہوں نے کہا کہ تمام ذمہ داری حکومت پر ڈالنا درست نہیں۔ہمیں روایتی فیول سے ہٹ کر فائیوفیول کی طرف جانا ہوگا،اور انرجی کو بنانے کے لئے خام مال درآمدکرنے کی بجائے مقامی وسائل کواستعمال کرنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شوگرملیں پھوک سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیداکرکے ملک سے اندھیروں میں کمی لاسکتی ہیں۔اس موقع پر راو ¿خالدخان،محمدعثمان رنگونی،سعیدانصاری،ریاض چنائے،سمیرچنائے،حق نوازاختر، انجینئر مسعود اصغر،چودھری طارق اور حسن شہزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سٹیل انڈسٹری کو پروموٹ کرنے کے لئے اقدامات کرے،انہوں نے کہا کہ ملکی انڈسٹری کو فروغ دے کر کروڑوں ڈالرکازرمبادلہ بچایاجاسکتا ہے جبکہ مقامی تیارکردہ میٹریل کو عالمی منڈیوں میں فروخت کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایاجا سکتاہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…