جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

رواں سال سولر پینلز کی قیمتیں کیا رہیں گی؟ اہم پیشگوئی کردی گئی

datetime 17  فروری‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)ملک میں موسم گرما کا آغاز تقریبا ہو چکا ہے اور سولر پینل کے سیزن کی بھی ابتدا ہو چکی ہے۔پاکستان میں گزشتہ برس کے آغاز سے لے کر آخر تک سولر پینل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی تھی۔ عالمی منڈی میں لیتھیئم بیٹری کے ریٹ ایک سال میں 50 فیصد تک گر چکے تھے۔ جس کے باعث سولر پینل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی تھی۔سولر پینل کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق چین میں نئے سال کی تعطیلات اور اس کے بعد سپلائی کے مسائل کی وجہ سے مارکیٹ میں سولر پینل کی قیمتوں میں مقامی طور پر معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن آنے والے مہینوں میں اگر حکومت نے ٹیکس نافذ نہ کیا، جس کا امکان بہت زیادہ ہے تو سولر پینل کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مختلف برانڈز کے سولر پینلز کی قیمتوں میں 4 سے 8 روپے فی واٹ کا اضافہ ہوا ہے کیونکہ سردیوں کے موسم میں سلیکا کی قیمت بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے سیل اور بعد میں سولر پینل کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں مانگ بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے مگر مانگ بڑھنے کی توقع کے باوجود سولر پینل کی قیمتوں میں کچھ خاص اضافے کے امکانات نہیں ہیں۔ اگر اضافہ ہوا بھی تو بہت ہی معمولی قیمتیں اوپر جائیں گی۔ اس سب کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سولر پینل کی قیمتیں رواں برس میں بھی مستحکم رہنے کے امکانات ہیں۔اس وقت فی کلو واٹ سولر پینل کی قیمت 39 سے 45 روپے کے درمیان ہے اور قیمتوں کا اتار چڑھا ئوبرینڈ اور اس کی کوالٹی پر منحصر ہے۔

ماہرین کے مطابق انہوں نے بتایا کہ2023 میں سولر پینل کی فی کلو واٹ قیمت 120 روپے تک تھی جو کہ 2024 میں 37 روپے تک پہنچ گئی اور ابھی بھی تقریبا یہی قیمت چل رہی ہے۔سولر پینل سسٹم کی کل لاگت کا 70 فیصد حصہ پینلز کی قیمت پر منحصر ہوتا ہے تو 2023 کے مقابلے میں 2025 میں بھی ابھی تک مارکیٹ بہت اچھی ہے اور آگے قیمتوں میں اضافے کے امکانات ہیں لیکن وہ اضافہ بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…