جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کیلیفورنیا کا ” خوف گھر“ جہاں اپنی ذمے داری پر داخل ہونا پڑتا ہے

datetime 13  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر ٹسٹن میں 17 کمروں پر مشتمل ایک خوفناک مرکز کھولا گیا ہے جسے ” سیونٹینتھ ڈور “ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں داخل ہونے سے قبل کسی بھی نقصان کی صورت میں خود ذمے دار ہونے کے کاغذات پر دستخط کرنا پڑتے ہیں۔
اس آسیب زدہ گھر میں ہالی ووڈ کی خونی فلموں کی طرح انسان خور نیم مردہ افراد بھی ہیں تو تیز دھار آلات سے جانوروں کو لہولہان کرتے ہوئے قصاب بھی جو اچانک سامنے آکر خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں آنے والے کسی تماشائی کو کچھ ہوجانے کی صورت میں اس کی ذمے داری کمپنی پر عائد نہیں ہوتی۔ اس آسیب زدہ گھر میں موجود 17 کمرے فرضی ڈراو¿نے خوابوں کی طرح پیش کیے گئے ہیں اور اس کا نام ”پاو¿لا ورلڈ“ رکھا گیا ہے جہاں ایک کمرہ خون سے بھرا ملے تو دوسرے میں خون جمادینے والی سردی ہے، تیسرے کمرے میں گوشت کی بو رچی ملے گی اور جگہ جگہ بلائیں، خونی انسان اور دیگر مخلوقات کی بھرمار ہے جن میں سے بعض زنجیروں سے بندھے ہیں اور کچھ اصل کھونٹوں سے لٹکے ہوئے ہوں گے جو آپ کو قابو کرنے کی کوشش کریں گے.
اس خوفناک گھر میں آپ کو کوشش کرکے ہر کمرے کا دورازہ کھولنا ہوگا جس کے لیے خاص مشقت کی ضرورت ہوگی۔
اس خوفناک چیلنج کو عبور کرنے میں 32 منٹ لگتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت خوف سے پیشاب کردیتی ہے۔ اگر آپ بہت گھبرا جائیں تو رحم کی اپیل کردیں تو سب کچھ بند ہوجائے گا اور آپ کو وہاں سے جلد نکلنے کا راستہ دیدیا جائے گا۔ کیلیفورنیا میں تفریح کے حوالے سے کھولے گئے اس خوفناک گھر کا ٹکٹ 20 سے 30 ڈالر یعنی 2 سے 3 ہزار پاکستانی روپے ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…