اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریا کی ماڈل نے ہونٹوں کی سرجری اور خوبصورتی کے لیے 50 ہزار پاؤنڈ خرچ کر ڈالے

datetime 30  دسمبر‬‮  2024 |

آسٹریا(این این آئی)آسٹریا کی ‘فیٹش باربی’ کے نام سے مشہور ماڈل نے اپنے ہونٹوں کی سرجری اور خوبصورتی میں اضافے کے لیے 50 ہزار پاؤنڈ خرچ کر ڈالے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 سالہ ماڈل اپنی غیر معمولی اور مصنوعی شکل کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں اور وہ 18 سال کی عمر سے ہی بوٹوکس اور فلرز کا استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم ان کی اس حیرت انگیز تبدیلی اور منفرد انداز کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ ان کا چہرہ متعدد کاسمیٹک سرجریز کی وجہ سے خوفناک دکھائی دے رہا ہے۔

انہوں نے یوٹیوب پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دوست اور خاندان کے افراد ان کے اس حلیے پر پریشان ہیں، لیکن ماڈل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک گڑیا کی طرح دیکھنا چاہتی ہیں، بڑے بال، بڑے ہونٹ، اور بڑے ناخنوں والی ایسی باربی جو دیگر سے مختلف ہو۔ماڈل کے مطابق یہ انداز انہیں مضبوط اور پراعتماد محسوس کرواتا ہے، چاہے لوگ تنقید کریں کیونکہ وہ مطمئین ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ماڈل نے بوٹوکس اور فلرز پر اب تک 32,000 سے 53,000 پاؤنڈ (18 کروڑ 8 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) خرچ کیے ہیں اور ہر 3 سے 4 ماہ بعد اپنے ہونٹوں کو مزید فل کروانے جاتی ہیں۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ بوٹوکس اور فلرز کا ضرورت سے زیادہ استعمال ان کی صحت کو طویل مدت میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…