اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

میری 4 بیٹیاں مر گئیں یا زندہ ہیں کوئی تو بتا دے،والدکی درخواست

datetime 10  دسمبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں چار بیٹیوں کی بازیابی کے لیے معمر شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔دورانِ سماعت درخواست گزار علی گل نے کہا ہے کہ میری 4 بیٹیوں کو اغواء کیا گیا، میری بیٹیاں مر گئیں یا زندہ ہیں کوئی تو بتا دے،اغوا کی گئیں لڑکیوں کے والد نے کہا کہ میری بیٹیاں پہلے 2017ء میں اغواء ہوئی تھیں اور 2019ء میں بازیاب ہوئی تھیں، واقعے کا مقدمہ بھی درج کرایا تھا، لیکن ایک بار پھر 2019ء میں میری بیٹیوں کو اغواء کیا گیا، تب سے اب تک میری بیٹیوں کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔

درخواست گزار علی گل نے کہا کہ ایک بیٹی کا تو والد کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا، اس بیٹی کو پنجاب کی ایک عدالت میں پیش کر کے نکاح کا بتایا گیا، نہ میری اس بیٹی کا بیان دکھایا جا رہا ہے نہ ہی اس کی شکل۔لڑکیوں کے والد نے کہا کہ اگر اس نے شادی بھی کر لی تو میں خوش ہوں لیکن بیٹی دکھا تو دیں، مقدمے میں نامزد ملزمان کو تاحال پولیس گرفتار نہیں کر رہی۔سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کی سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…