جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کا کیس، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی معافی منظور

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کے کیس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور آر پی او راولپنڈی کی غیرمشروط معافی منظور کرلی۔پی ٹی آئی رہنما عمرایوب کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے سماعت کی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور آر پی او راولپنڈی کی غیر مشروط معافی منظور کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق اور پنجاب کے سیکریٹری داخلہ سے بھی بیانِ حلفی طلب کر رکھے ہیں۔عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کے کیس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے استدعا کی کہ آخری موقع دے دیں آئندہ نہیں ہوگا اور عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد ہوگا، انہوں نے عدالت میں بیان حلفی پیش کیا۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بھی عدالت سے غیر مشروط معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے حوالے سے پولیس کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا، ہم سوچ بھی نہیں سکتے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کریں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچے بچے کو معلوم تھا کورٹ نے آرڈر کیا تھا آپ کہہ رہے ہیں ہمیں یہ آرڈر معلوم ہی نہیں، ان کے بیان حلفی کے مطابق 2 بجے وہ اڈیالہ جیل کے گیٹ پر تھے اور 4 بجے تک موجود رہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ گیٹ یر موجود نہیں تھے، میں نے اپنے بیان حلفی میں بھی ذکر کیا ہے، دو روز قبل ان کو میسج بھی کیا کہ ملاقات کے لیے آئیں لیکن وہ نہیں آئے۔جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے کہا کہ مستقل بنیادوں پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہورہی ہے، اس طرح کھڑے کھڑے لوگوں کو پکڑنے پر آپ اپنی ساکھ کھو رہے ہیں، مجھے پتہ ہے آپ نے جان بوجھ کے نہیں کیا آپ سے کروایا گیا ہے، یا پھر یہ نام بتا دیں ان کو کس نے آرڈر کیا تھا ہم ان کو نوٹس کر دیں گے۔ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے استدعا کی کہ عدالت ایک آخری موقع دے دے، میں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو اس وقت کال کی۔

پی ٹی آئی کے شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ ہم گیٹ کے اندر موجود تھے اس کی ویڈیوز موجود ہیں، اپوزیشن لیڈر کو گھسیٹتے ہوئے لیکر جاتے ہیں، کوئی اور بندے نہیں تھے وہ صرف 5 بندے ہی موجود تھے، ہمارے ملک کا نظام ہی ایسا ہے۔جسٹس سردار اعجاز اسحق خان نے ریمارکس میں کہا کہ شعیب صاحب ملک کا نظام ایک یا دو عدالتوں سے ٹھیک نہیں ہو گا، آپ کے ملک کا نظام عدالتوں کے ہاتھ سے نکل کر پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…