بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

نیوزی لینڈ میں ہزاروں قبائیلیوں کا دارالحکومت پر دھاوا

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

ویلنگٹن (این این آئی)نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں برطانوی نوآباد کاروں اور قبیلہ ماروی لوگوں کے درمیان دستاویز کی دوبارہ تشریح سے متعلق متنازع بل پر ہزاروں قبائیلیوں نے درالحکومت پر دھاوا بول دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق35,000 سے زیادہ لوگوں نے نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے باہر متنازع بل کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے 9 روزہ پرامن احتجاج کے اختتام دارالحکومت پر دھاوا بول کرکیا۔ پر امن احتجاج پورے ملک میں ہوئے۔ہیکوئی قبیلے کے شرکا دارالحکومت ویلنگٹن میں مارچ کیا۔ انہوں نے اپنے جسم پر ماوری قبیلے کا پرچم لپٹے ہوئے تھا۔

احجاج میں بل کی مخالفت کرنے والے سماجی کارکنوں اور حامیوں نے بھی شرکت کی۔ بل حکومتی اتحاد کے ایک جونیئر رکن نے پیش کیا تھا۔ایکٹ پولیٹیکل پارٹی کی طرف سے متعارف کرایا گیا بل، دلیل دیتا ہے کہ نیوزی لینڈ کو 1840 کے معاہدے ویتنگی کے اصولوں کی ازسرنو تشریح اور قانونی طور پر وضاحت کرنی چاہیے، ایک ایسی دستاویز جسے ملک کے نسلی تعلقات کے لیے بنیادی سمجھا جاتا ہے۔

پارٹی کے رہنما ڈیوڈ سیمور کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس معاہدے کی بنیادی اقدار نے اتحاد نہیں بلکہ نسلی تقسیم کو جنم دیا ہے۔مجوزہ بل کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ میں اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی مارچ دیکھنے میں آیا۔ عینی شاہدین منگل کی صبح ویلنگٹن میں احتجاجی شرکا کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…