ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے دل کو لیزرز کی مدد سے کنٹرول کرنے کی تیکنیک تیار کرلی

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )میڈیکل سائنس تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور مہلک ترین بیماریوں کا بھی علاج دریافت کیا جارہا ہے اسی لیے اب ماہرین نے اس حوالے سے ایک اور کامیابی حاصل کرتے ہوئے دل کو لیزرز کی مدد سے کنٹرول کرنے کی تیکنیک تیار کرلی ہے۔سائنس ایڈوانسز میں شائع مضمون میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تیکنیک کی مدد سے نہ صرف پیس میکر کو کنٹرول کیا جا سکے گا بلکہ دل کی غیر معمولی دھڑکن کو کنٹرول کیا جانا ممکن ہوگیا ہے جب کہ اس تجربے کو سب سے پہلے مکھی پر آزمایا گیا جس کے نتائج انتہائی اہم اور کامیاب رہے۔ تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم نے اس نئی ٹیکنالوجی کے تجربے کے لیے ڈروسوفیلا نامی فروٹ مکھی کا استعمال کیا۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ انیش الیکس کا کہنا ہے کہ اس وقت پیس میکر کے چلانے کے لیے الیکٹریکل ویوکا استعمال کیا جا تا ہے اور اسے گولڈ اسٹینڈرڈ مانا جاتا ہے تاہم یہ الیکٹریکل موجیں دل کے ٹشوز پر حملہ آور ہوتی ہیں جس سے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے، سائنس دانوں کے جنیاتی انجیئرڈ ڈروسوفیلا پر تجربے کے دوران آنکھوں میں پائی جانے والی پروٹین سامنے آئی جو دل کے خلیوں میں بھی پائی جاتی ہے۔تجربے کے دوران سائنس دانوں نے ڈروسوفیلا کے دل کی دھڑکن اور اس کا ردعمل کا تجزیہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ریئل ٹائم ایمجز تیکنیک کا استعمال کیا جسے خصوصی طور پر اس تجربے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ تجرنے کے دوران اس تیکنیک کے ذریعے مکھی کی لائف سائیکل کے مختلف اوقات میں دل کی دھڑکن کو کم او زیادہ کر کے دیکھا گیا جب کہ اس کے علاوہ سیفٹی ٹیسٹنگ بھی کی گئی جس سے یہ بات سامنے آئی کہ اس تیکنیک کے استعمال سے کوئی طویل مدت کے منفی اثرات دل کی ڈیولیپمنٹ پر سامنے نہیں آئے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نیوروسائنس میں نیورونل فنکشن کو کنٹرول کرنے کے لیے ہلکی روشنی دل میں لگے پیس میکر کو فعال کردیتی ہے تاہم یہ محدود ہوتا ہے۔ سائنس دانوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نئی نسل اس شعاعوں سے کنٹرول ہونے والے پیس میکر کا استعمال کر سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…