جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

عجیب حرکت،جرمن شہری نے چہرے پر 11 سوراخ کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2015 |

برلن(نیوز ڈیسک) جرمنی کے 22 سالہ نوجوان نے اپنے گال اور چہرے کے دیگر حصوں پر 11 سوراخ کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔دن چھدوانے کے جنون میں مبتلا جوئیل مگلر نے اپنے ہونٹوں اور ناک پر بھی بڑے بڑے سوراخ کرائے ہیں جنہیں انہوں نے ’’گوشت میں سرنگ‘‘ قرار دیا جب کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ان کے چہرے پر سب سے زیادہ سوراخ کیے گئے ہیں۔ مگلر کے گالوں پر سب سے بڑے سوراخ ہیں جن کی چوڑائی 34 ملی میٹر ہے اور اب وہ گالوں کے سوراخ کو مزید 40 ملی میٹر تک لے جانا چاہتے ہیں۔13 برس کی عمر میں انہوں نے کان کی لو میں سوراخ کرائے تھے جس کے بعد انہوں نے چہرے سمیت پورے بدن میں 27 سوراخ کرائے ، 6 ٹیٹو بنوائے اور ایک پیوندکاری بھی کرائی اور اس کے بعد بھی ان کا دل نہ مانا تو انہوں نے اپنی زبان کو 2 حصوں میں تقسیم کرادیا۔ مگلر اب دونوں گالوں سے زبان باہر نکال سکتے ہیں اور دونوں گالوں سے لالی پاپ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شوق بہت تکلیف دہ ہے اور انہیں آپریشن کے ہفتوں بعد بھی تکلیف ہوتی رہتی ہے لیکن زخم ٹھیک ہوتے ہی وہ دوسری مرتبہ آپریشن کرانے کا سوچنے لگتے ہیں۔
مگلر کھاتے وقت چھوٹے نوالے کھاتے ہیں ورنہ غذا دونوں گالوں کے سوراخ سے باہر پھسل جاتی ہے جب کہ وہ دونوں گالوں کے آرپار سے ڈور گزارسکتیہیں۔ مگلر کے مطابق لوگ ان سے دور رہتے ہیں لیکن ان کی والدہ کو ان کا ہر انداز پسند ہے اور وہ انہیں خوبصورت قرار دیتی ہے، مستقبل میں جوئیل مگلر اپنے چہرے اور جسم پر مزید تبدیلیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…