ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کا کمرشل بینکوں سے 40کھرب روپے قرض لینے کا انکشاف

datetime 25  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت کی جانب سے ضروریات پوری کرنے کیلئے کمرشل بینکوں سے 40کھرب روپے قرض لینے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا حکومتی اختیار ختم کردیا گیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سٹیٹ بینک حکام کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں کمیٹی اراکین نے اسلامی بینکوں کی جانب سے قرضوں پر زیادہ شرح وصولی پر تحفظات کا اظہار کیا ۔اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ روایتی بینک قرض دینے پر 22.7 فیصد سود جبکہ اسلامی بینک 18.8 فیصد ریٹ وصول کر رہے ہیں اور صارفین کی طرف سے اسلامی بینکوں میں ڈپازٹس پر منافع کی شرح 14.1 فیصد ہے۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسلامی بینک اسلام کے لیے نہیں بلکہ زیادہ ریٹرن حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، اسٹیٹ بینک کو روایتی بینکوں کی طرح اسلامی بینکوں کو ریگولیٹ کرنا چاہیے۔اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری بہت تیزی سے فروغ پا رہی ہے، بین الاقوامی اسلامک بینکنگ میں پاکستان گیارھویں نمبر پر ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسلامی بینک کمرشل بینکوں کے مقابلے میں چار فیصد کم منافع ادا کر رہے ہیں جس پر اسٹیٹ بینک کے عہدیداروں نے جواب دیا کہ حکومت نے کمرشل بینکوں سے 40 کھرب روپے کا قرض لے رکھا ہے۔وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکرٹری فنانس نے بتایا کہ پارلیمنٹ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 14بی اور سی میں ترمیم ہو چکی ہے، وزارت خزانہ سے ترمیم سے متعلق مشاورت نہیں کی گئی، پارلیمنٹ کو کسی بھی قانون میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ اب حالات پارلیمانی اورعدالتی بالادستی کی طرف بڑھ رہے ہیں، سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے ارکان نے بھی اس امتیازی سلوک پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے کہ پہلے فیڈریشن کے مالی امور پر وفاق یا وزارت خزانہ سے مشاورت ہوتی تھی۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہم ایک بل کے ذریعے اس میں سینیٹ کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں، سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ تنخواہوں اورمراعات کے معاملے پر سینیٹ کواختیار حاصل ہونا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…