جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

اسٹیٹ بینک سے آئی پی پیز کی اوور انوائسنگ کی تفصیلات طلب

datetime 23  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے آئی پی پیز کی اوور انوائسنگ کی تفصیلات طلب کر لیں۔سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، چیئرمین کمیٹی نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے آئی ایم ایف کے فنڈز کہاں استعمال ہوئے، اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ ان کے پاس جو بھی بیرونی کرنسی میں پیسہ آتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ بنتا ہے۔اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ ان کے پاس آنے والے فنڈز ادائیگیوں کے توازن پر خرچ ہوتے ہیں، آئی ایم ایف کی رقم کرنٹ اکاونٹ میں استعمال ہوتے ہیں، کرنٹ اکاونٹ میں ٹریڈ اکاوئنٹ بھی شامل ہے۔

سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ہمارا سوال بہت آسان ہے کہ 2018 کے بعد آئی ایم ایف کے کتنے پیسے آئے، یہ بتا دیا جائے جو پیسے آئے کہاں کہاں اور کتنے خرچ ہوئے؟اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ ہم یہ تفصیلات کمیٹی کو فراہم کر دیں گے جس پر سینیڑ سیف اللہ نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کا 26 پروگرام ہے، اسٹیٹ بینک تمام اکاؤنٹس میں خسارے، آئی ایم ایف سے قرض ملنے کے بعد اثرات کی تفصیلات فراہم کرے یہ معلومات تین اجلاسوں سے مانگ رہے ہیں یہ 3 روز میں فراہم کی جائے۔

کمیٹی چیئرمین نے پوچھا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے خلاف 65 ارب روپے سے زائد کا منافع کمانے پر کیا کارروائی کی، سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے بھی اس کو تسلیم کیا اور تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔اسٹیٹ بینک کے حکام کا کہنا تھا کہ کوویڈ پروگرام کی ہم نے درخواست نہیں کی تھی یہ سب کو دیا گیا، بینکوں نے اوور انوائسنگ کی، ریگولیٹری خلاف ورزی ہوئی اس پر اسٹیٹ بینک نے کارروائی کی تھی۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ یہ اوور انوائسنگ کیا ہوتا ہے، کل سارے میڈیا پر خبریں تھیں کہ آئی پی پیز نے اوور انوائسنگ کی، اس اوور انوائسنگ سے ملک کو اربوں روپے سالانہ کا نقصان ہوا، اسٹیٹ بینک کو اپنی رپورٹ کمیٹی کو دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اپریل 2002 سے ستمبر 2022 تک ایل سیز کی تفصیلات فراہم کرے، تفصیلات میں اس دن کا ڈالر کا ریٹ ، ایل سی کھولنے والے بینک کا ریٹ فراہم کیا جائے۔سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ کیا کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟ جس پر حکام اسٹیٹ نے جواب دیا کہ اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری خلاف ورزی پر کارروائی اور جرمانہ کیا، بینکوں کو ایک ارب 40 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ 65 ارب روپے کمانے کے بعد 1.4 ارب روپے ادا کر دیئے گئے۔سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ یہ معاملہ اس طرح نہیں بند کرنے دیں گے ، یہ عوام کی رقم ہے اس کی وصولی کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…