بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

شادی سے انکار کرنے پر خاتون اسکول ٹیچر قتل

datetime 5  ستمبر‬‮  2024 |

پشاور (این این آئی)صوبہ خیبرپختوخوا میں ایک خاتون اسکول ٹیچر کو مقامی بااثر فرد کی جانب سے شادی کی پیشکش سے انکار کرنے پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا، بااثر شخص ماضی میں بھی اسے ہراساں کرتا تھا اور اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالتا تھا۔مقتول خاتون کے والد جان محمد کی جانب سے پولیس اسٹیشن ٹوٹلائی بونیر میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ان کی بیٹی گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول، جنگدرہ میں بطور ٹیچر خدمات انجام دے رہی تھی۔

انہوں نے ایف آئی آر میں بتایا کہ میں خود اپنی 40 سالہ بیٹی نرگس کے ساتھ منگل کی صبح ڈیوٹی کے لیے اس کے اسکول جا رہا تھا، جب ہم لوہار سرائے کے علاقے میں پہنچے تو وہاں ایک سفید رنگ کی کار کھڑی تھی، اس میں سے دو مسلح افراد نکلے اور انہوں نے ان کی بیٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ دونوں مسلح افراد امانی زیب اور عبدالرحمن ٹوٹلائی کے رہائشی ہیں اور ملزمان ان کی بیٹی کو قتل کرنے کے بعد گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگئے تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔مقتول اسکول ٹیچر کے والد نے ایف آئی آر میں کہا کہ ان کی بیٹی غیر شادی شدہ تھی اور مقامی بااثر عطا اللہ ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا تھا جبکہ نرگس اس تجویز پر راضی نہیں تھی اور ہمیشہ انکار کرتی رہی لیکن عطا اللہ اکثر انہیں اور ان کی بیٹی کو ہراساں کرتا تھا۔

انہوں نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی کو عطا اللہ کے اکسانے پر قتل کیا گیا اور خود ان کی بیٹی نے 20 ستمبر 2023 کو پولیس کو رپورٹ کی تھی اور ٹوٹلائی کے عطا اللہ کے خلاف زیر دفعہ 500، 506، 342/34 کے تحت ایف آئی آر نمبر 493 درج کرائی تھی۔پرانی ایف آئی آر میں مقتولہ خاتون کا مؤقف تھا کہ عطا اللہ نے انہیں راستے میں موبائل فون کے ذریعے ہراساں کیا اور شادی اور رشتہ رکھنے پر مجبور کیا۔انہوں نے اپنی شکایت میں لکھا کہ ملزم اس کے گھر والوں، والد پر دباؤ ڈالتا تھا اور ان سے کہتا تھا کہ وہ اس کی ہو گی اور کوئی اس کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا۔

بونیر کے ضلعی پولیس افسر شاہ حسن نے بتایا کہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کا ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے اور وہ متاثرہ اور اس کے خاندان کو انصاف فراہم کریں گے۔دوسری جانب صوبے بھر کے ماہرین تعلیم کی جانب سے اس واقعے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ خواتین اساتذہ کے لیے محفوظ راستے اور سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…