اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آر نے دو ماہ میں 1588 ارب کا ٹیکس جمع کرلیا

datetime 2  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے رواں مالی سال 2024-25کے پہلے دو ماہ میں ہدف سے زائد مجموعی طور پر 1588ارب روپے کے محصولات جمع کرلیے۔ ایف بی آر کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے دومہنیوں جولائی اور اگست میں مجموعی طور پر1588ارب روپے کے محصولات جمع کر لیے ہیں، دوماہ کے ہدف 1554ارب روپے کے مقابلہ میں ایف بی آر نے 1456ارب روپے کے خالص محصولات جمع کیے ہیں جبکہ لیکوڈیٹی کے مسائل کے حل کیلے برآمدکنندگان کو 132 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے جو گذشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 44فیصد زیادہ ہیں۔ایف بی آر نے انکم ٹیکس کی مد میں 593ارب روپے جمع کیے جبکہ جولائی-اگست 2023 میں اسی مد میں 437ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔

اس طرح اس مد میں 36فیصد زیادہ محصولات جمع کیے گئے۔سیلز ٹیکس کی مد میں 314ارب روپے جمع کیے گئے جو سال بہ سال کی بنیاد پر 40 فیصد کا صحت مندانہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 86ارب جمع کیے گئے جو سال بہ سال کی بنیاد پر 13فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں ڈومیسٹک ٹیکسوں کی وصولی میں مجموعی طور پر 35 فیصد کا اضافہ حاصل کیا گیا ہیتاہم درآمدات میں مسلسل کمپریشن کی وجہ سے اس شرح نموکو برقرار نہیں رکھا جا سکا۔امریکی ڈالر کے اعتبار سے اگست 2023کے مقابلے میں اگست 2024میں درآمدات میں 2.2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔اسی طر ح سے اگست 2024 کے دوران درآمدت میں اگست 2023 کے مقابلے میں پاکستانی روپے کے حساب سے سات فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مزید برآں ہائی ڈیوٹی اشیا جیسے گاڑیوں، گھریلو آلات کے ساتھ ساتھ متفرق اشیا مثلا گارمنٹس، فیبرکس، جوتے وغیرہ کی درآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ اس رجحان نے کسٹمز ڈیوٹیز اور درآمدات کی سطح پر وصول کیے جانے والے دیگر ٹیکسوں کو متاثر کیا ہے۔کسٹمز ڈیوٹیز میں چار فیصد کے اضافہ کے باوجود ایف بی آر کی خالص وصولیوں میں پچھلے سال کے مقابلہ میں مجموعی طور پر 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایف بی آر کے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں محصولات جمع کرنے کے اہداف پورے کرنے کے روشن امکانات ہیں کیونکہ ستمبر میں کم پالیسی ریٹ اورحالیہ مہینوں میں حکومتی سطح پر دیگر اقدامات کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں اور درآمدات میں اضافہ کی توقع کی جارہی ہے۔وزیر اعظم پاکستان اور وزیر خزانہ کی نگرانی میں ہونے والی ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور دیگر اصلاحات کی وجہ سے بھی شرح نمو میں اضافہ ہونے کا واضح امکان ہے۔ان اصلاحات میں سپلائی چین کی اینڈ ٹو اینڈ مانیٹرنگ،آٹو میٹڈ پروڈکشن مانیٹرنگ، پی او ایس، آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی بنیا د پر ڈیٹا انٹگریشن، امپورٹ اسکیننگ اور ایف بی آر کی افرادی قوت کی ساکھ پر کڑی نظر رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ایف بی آر کاروبار کرنے میں آسانیاں لانے اور اسے ترقی دینے کے لیے اپنے بزنس پراسسز کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…