اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

مشرق وسطی کے بینکوں سے 4بلین ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک

datetime 27  اگست‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہاہے کہ ملک بیرونی فنانسنگ کے خلا کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لئے پاکستان اگلے مالی سال تک مشرق وسطی کے کمرشل بینکوں سے چار ارب ڈالر اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ایک خصوصی انٹرویو میں جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)سے 7 بلین ڈالر کے بیل آئوٹ پروگرام کی منظوری کے لیے درکار اضافی بیرونی فنانسنگ میں دو بلین ڈالر حاصل کرنے کے ایڈوانس اسٹیجز میں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف نے جولائی میں قرض پروگرام پر ایک معاہدہ کیا تھا، جو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری اور ملک کو پاکستان کے ترقیاتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے ضروری مالیاتی یقین دہانیوں کی بروقت تصدیق حاصل کرنے سے مشروط ہے۔مانیٹری پالیسی کے بارے میں پوچھے جانے پر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان میں شرح سود میں حالیہ کمی کا مطلوبہ اثر ہوا ہے، افراط زر کی شرح مسلسل سست ہے اور کٹوتیوں کے باوجود کرنٹ اکانٹ کنٹرول میں ہے۔پاکستان کی سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس افراط زر جولائی میں 11.1 فیصد تھی، جو 2023 میں 30 فیصد سے زیادہ گر گئی ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی ان تمام پیش رفتوں کا جائزہ لے گی، انہوں نے مزید کہا کہ شرح کے حوالے سے فیصلے پہلے سے طے نہیں کیے جا سکتے۔جمیل احمد نے کہا، اب ہمیں ترقی اور دیگر متعلقہ شعبوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی کیونکہ یہ ملازمتوں کی تخلیق اور دیگر سماجی اقتصادی مسائل کے لیے بھی اتنے ہی اہم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی بینک کا مینڈیٹ ترقی کی طرف توجہ مرکوز کرنے سے پہلے قیمت اور مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…