جمعہ‬‮ ، 01 مئی‬‮‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کا فیصلہ

datetime 19  جولائی  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ کرلیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سپریم کورٹ کے حکم پر عملد رآمد کے سلسلے میں اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا تاہم الیکشن کمیشن کی لیگل ٹیم کو ہدایات جاری کی گئیں کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے کسی پوائنٹ پر عملدرآمد میں رکاوٹ ہے تو وہ فوراً اس کی نشاندہی کریں تاکہ مزید رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

اجلاس کے دوران ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر اور معزز ممبران الیکشن کمیشن کو مسلسل اور بیجا تنقید کا نشانہ بنانے پر کمیشن نے اس کی شدید مذمت کی اور اسے مسترد کر دیا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ اراکین سے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، کمیشن کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق کام کرتا رہے گا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس نے کسی فیصلے کی غلط تشریح نہیں کی، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن کو درست قرارنہیں دیا جس کے خلاف پی ٹی آئی مختلف فورمز پر گئی اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن ٹھیک نہیں تھے جس کے قانونی نتائج میں الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 215 کیتحت انتخابی نشان بلا واپس لیا گیا، لہذا الیکشن کمیشن پر الزام تراشی انتہائی نامناسب ہے۔بیان میں کہا گیا کہ جن 39 ایم این یاز کو پی ٹی آئی کا رکن اسمبلی قرار دیا گیا ہے انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی سے اپنی وابستگی ظاہر کی تھی جب کہ کسی بھی پارٹی کا امیدوار ہونے کے لیے پارٹی ٹکٹ اور حلف نامہ ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کروانا ضروری ہے جو کہ ان امیدواروں نیجمع نہیں کروایا تھا، لہذا ریٹرننگ آفسران کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ان کو پی ٹی آئی کا امیدوار قرار دیتے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ جن 41 امیدواروں کو آزاد قرار دیا گیا ہے، انہوں نے نہ تو اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی کا ذکر کیا اور نہ پارٹی س وابستگی ظاہر کی اور نہ ہی کسی پارٹی کا ٹکٹ جمع کروایا، لہذا ریٹرننگ افسروں نے ان کو آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ترجمان نے کہا کہ الیکشن جیتنے کے بعد قانون کے تحت تین دن کے اندر ان ایم این ایز نے رضاکارانہ طور پر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں آئی، سنی اتحاد کونسل کی یہ اپیل مسترد کردی گئی، پی ٹی آئی اس کیس میں نہ تو الیکشن کمیشن میں پارٹی تھی اور نہ ہی پشاور ہائیکورٹ کے سامنے پارٹی تھی اور نہ ہی سپریم کورٹ میں پارٹی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…