بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے پی ٹی آئی کی امریکا سے آنیوالی فنڈنگ کے ناقابل تردید ثبوت جمع کرلیے

datetime 8  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی امریکا سے آنے والی غیر ملکی فنڈنگ کے ناقابل تردید ثبوت جمع کرلیے ہیں۔ فنڈنگ کرنے والے ذرائع کے یہودی اور ہندو شخصیات کے ساتھ تعلقات ہیں جن کے امریکی سیاست سے مفادات وابستہ ہیں۔جنگ رپورٹر صالح ظافر کے مطابق کچھ ”گھوسٹ“ معاونین کی شناخت بھی کی جا چکی ہے لیکن ان کے ٹھکانے صرف اسی صورت معلوم ہو سکتے ہیں جب امریکی ایجنسیاں ان کے متعلق تحقیقات کریں۔ یہ دعویٰ سابق وزیر مملکت اور بلدیاتی حکومتوں کا نیا نظام دینے والی شخصیت دانیال عزیز نے قومی اخبار کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ شکر گڑھ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز چوہدری نے الزامات کے حوالے سے شواہد حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی حکومت کو یقین ہوجائے گا کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی کارپوریشنز اور شخصیات سے فنڈنگ لی ہے، پی ٹی آئی تحلیل ہوجائے گی اور سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے گا کہ پارٹی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نے اسرائیل سے اپنے دوستوں سے لاکھوں ڈالرز وصول کیے ہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ انتخابی نشان حاصل کرنے والی جماعت کو الیکشن کمیشن میں یہ سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوتا ہے کہ اس نے کالعدم ذریعے بشمول کارپوریشن اور شخصیات سے غیر ملکی فنڈنگ حاصل نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی پارٹی تحلیل ہوجائے گی ویسے ہی اس کے ارکان کو پارٹی سے لاتعلقی ظاہر کرنا ہوگی بصورت دیگر 15 روز میں وہ اپنی رکنیت سے محروم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فارن ایجنٹس رجسٹریشن اتھارٹی (ایف اے آر اے) نے انہیں کارپوریشنز اور شخصیات کے حوالے سے شواہد دیئے ہیں کہ جن سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کو رقوم بھیجی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف امریکا نہیں بلکہ دیگر ملکوں سے بھی پی ٹی آئی کی فنڈنگ کی گئی ہے۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والے بیری شنپس یہودی لیڈر ہیں اور وہ اسرائیلی منصوبوں کے زبردست حامی ہیں۔ بھارتی نڑاد امریکی سرمایہ کار اندر دوسپنج بھی ایسے امریکیوں میں شامل ہیں جنہوں نے عمران خان کو بھاری فنڈز فراہم کیے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ جو دستاویزات فراہم کی گئی ہیں ان میں مقاصد کا تعلق ملک میں امن و عامہ کے مسائل پیدا کرنا اور حکومت وقت کو ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو امریکا میں بحیثیت کمپنی رجسٹر کیا گیا ہے تاکہ وہ فنڈز وصول کر سکے۔ یہ ساری فنڈنگ اس وقت مشکوک ہو جاتی ہے جب پی ٹی آئی اور عمران خان نے قوت استعمال کرتے ہوئے گزشتہ سال دھرنوں سے وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کر دیا تھا اور ملکی معیشت اور ملک کو نقصان پہنچایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر بابر نے بھی انہی الزامات کی بنیاد پر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کیا ہے۔ کمیشن جمعرات کو ان کا موقف سنے گا۔ اگر ان کی گزارشات منظور کی جاتی ہیں تو وہ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان ”بلے“ کے تحت لاہور الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ ایسی صورت میں حکومت کو الیکشن ملتوی کرنا پڑ سکتے ہیں۔ امکان ہے کہ حکومت اکبر بابر کی کوششوں میں ان کی حمایت کرے گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…