جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ایک کیس 155 گھنٹے سنیں گے تو سپریم کورٹ چوک ہو جائے گی، چیف جسٹس

datetime 4  جولائی  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ایک کیس ایک سو پچپن گھنٹے سنیں گے تو سپریم کورٹ چوک ہو جائے گی۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ جیت کا تناسب 6 ہزار سے زائد ووٹ کا تھا، 7 ہزار سے زائد ووٹ مسترد ہوئے۔(ن )لیگ کے وکیل نے کہا کہ جیت کا تناسب 5 فیصد سے کم ہو تو دوبارہ گنتی کی جا سکتی ہے، آر او نے اپنے جواب میں کہا دوبارہ گنتی کی درخواست پر توجہ نہیں کر سکا۔پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کے بنائے قوانین میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا ہے، ہم اس اختیار کو کیسے ختم کر سکتے ہیں، ہر کیس گھنٹوں سننا شروع کر دیں تو زیر التوا کیسز کی تعداد میں پہاڑ جتنا اضافہ ہو گا، سپریم کورٹ انتخابات سے متعلق کیسز کو جلد مقرر کر رہی ہے، جب کیسز سماعت کے لیے مقرر ہوتے ہیں تو تیاری نہیں ہوتی، درخواست پر نمبرز تک درست نہیں لگائے گئے۔عدالت نے این اے 154 لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت 8 جولائی تک ملتوی کر دی۔مسلم لیگ (ن )کے امیدوار عبدالرحمن کانجو نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔الیکشن ٹربیونل نے عبدالرحمن کانجو کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا تھا اور آزاد امیدوار رانا فراز نون کو کامیاب قرار دیا تھا۔الیکشن ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کے دوبارہ گنتی کے حکم کو کالعدم قرار دیا تھا۔دوبارہ گنتی پر رانا فراز نون کی جگہ عبدالرحمن کانجو کامیاب قرار پائے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…