منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی صارفین سے 2116ارب روپے کیپسٹی چارجز لینے کا فیصلہ

datetime 15  جون‬‮  2024 |

اسلام آباد( این این آئی)حکومت نے آئندہ مالی سال میں بجلی کے صارفین سے 2116ارب روپے کیپسٹی چارجز لینے کا فیصلہ کرلیا ۔بجلی کے یونٹ کی بنیادی قیمت 27روپے 66پیسے فی یونٹ ، بجلی کی قیمت 9روپے 69پیسے اور کیپسٹی چارجز 17روپے 66پیسے فی یونٹ مقرر کردیئے گئے، آئندہ مالی سال میں بجلی کے صارفین سے مجموعی طور پر 3277ارب روپے وصول کئے جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی کی قیمت کی مد میں 1116ارب روپے اور کیپسٹی چارجز کی مد میں 2116ارب روپے وصول کئے جائیں گے، نیپرا نے آئندہ مالی سال میں صارفین کو بجلی کی فروخت سے متعلق فیصلہ جاری کردیا، فیصلے کا اطلاق ملک بھر کے تمام صارفین پر ہوگا۔

نیپرا ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں فرنس آئل سے 87روپے فی یونٹ تک بجلی پیدا کرنے کا تخمینہ ،ونڈ سے 37روپے اور سولر سے 36 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ درآمدی کوئلے سے 371روپے تک فی یونٹ بجلی پیدا ہوسکے گی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ آئندہ مالی سال میں ایل این جی سے 30 روپے فی یونٹ ،پن بجلی کی پیداواری لاگت 6 روپے 18 پیسے فی یونٹ تک ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…