اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے بینکوں سے ریکارڈ 55 کھرب روپے قرض لے لیا

datetime 20  اپریل‬‮  2024 |

اسلام آبا د(این این آئی)حکومت نے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک ہفتے کے دوران بینکوں سے 650 ارب روپے کا قرضہ لے لیا، جو بْلند مہنگائی کا نتیجہ ہے۔میڈیا رپورٹ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیاکہ رواں مالی سال یکم جولائی تا 5 اپریل کے دوران حکومت نے کمرشل بینکوں سے ریکارڈ 55 کھرب روپے کا قرضہ لیا۔13 اپریل کو مرکزی بینک نے رپورٹ کیا تھا کہ حکومت نے بینکوں سے 48 کھرب 42 ارب روپے کے قرضے لیے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران 657 ارب روپے لینے کے بعد قرضہ 55 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

بڑے پیمانے پر لیے گئے قرضے معیشت پر بوجھ ڈال رہے ہیں، مقامی قرضوں نے سود کی ادائیگیوں کے علاوہ محصولات کی تقسیم کے لیے گنجائش نہیں چھوڑی، حکومت کو کل بجٹ کے نصف سے زیادہ سود کی ادائیگی میں ادا کرنا پڑے گا۔مالی سال 23 کے دوران حکومت نے بینکوں سے 37 کھرب روپے کا قرضہ لیا تھا، لیکن موجودہ صورتحال تشویشناک نظر آتی ہے کیونکہ حکومت نے پہلے 9 مہینوں میں قرضوں میں 17 کھرب 84 ارب روپے کا اضافہ کیا ہے۔حکومت اقتصادی کارکردگی کی بہتر تصویر بنانے کے لیے عام طور پر مالی سال کی آخری سہ ماہی میں بینکوں سے بہت زیادہ قرض لیتی ہے۔

بیرونی محاذ پر صورت حال زیادہ خراب ہے، جہاں قرضہ لینا مشکل ہے کیونکہ پاکستان کی ادائیگی کی صلاحیت کم ہوگئی ہے، ملک کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اپنا امیج بحال کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی مدد درکار ہے لیکن گزشتہ 2 سالوں سے حکومت بین الاقوامی منڈیوں سے قرضہ لینے میں ناکام رہی ہے۔مالیاتی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ نئے معاہدے سے پاکستان کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ سے قرض لینے کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق جون 2024 کے آخر تک بینکوں سے موجودہ قرضے 70 کھرب روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…