منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا اور اسرائیل میں لفظی جنگ شدید ہو گئی

datetime 15  مارچ‬‮  2024 |

تل ابیب(این این آئی)وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی نے امریکی سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر کو ان کے بیان پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شومر نے نیتن یاہو کی کامیابی کے لیے اسرائیلی انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ جواب میں پارٹی نے کہا کہ اسرائیل ایک آزاد اور قابل فخر جمہوری ریاست ہے جس نے نیتن یاہو کو وزیر اعظم منتخب کیا، یہ کوئی بنانا ریپبلک نہیں ہے۔لیکوڈ پارٹی نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو ایک مضبوط پالیسی کی قیادت کر رہے ہیں جسے عوام کی ایک بڑی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

پارٹی نے مزید کہا کہ شومر کے الفاظ کے برعکس، اسرائیلی عوام حماس پر مکمل فتح کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک دہشت گرد فلسطینی ریاست کے قیام کے کسی بھی بین الاقوامی حکم کو مسترد کرتے ہیں اور غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کی مخالفت کرتے ہیں۔ سینیٹر شومر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسرائیل کی منتخب حکومت کا احترام کریں گے اور اسے کمزور نہ کریں گے۔ منتخب حکومت کا احترام ہمیشہ درست ہوتا ہے لیکن جنگ کے وقت میں اور بھی زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے چک شومر کے جواب میں کہا کہ امریکہ کو اسرائیلی جمہوریت کا احترام کرنا چاہیے۔واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے بھی جواب دیا اور کہا کہ ہمارے مقامی معاملات پر کسی اتحادی ملک کی جانب سے تبصرہ کرنا فائدہ مند نہیں ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے کہا ہے کہ شومر کی تقریر اس بات کا ثبوت ہے کہ نیتن یاہو امریکہ میں اسرائیل کے سب سے بڑے حامی کو کھو رہے ہیں۔امریکی سینیٹ میں اکثریتی رہنما چک شومر نے اسرائیلی وزیراعظم پر کڑی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ نیتن یاہو امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں اور اکثر انتہا پسندوں کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…