اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

بلڈ نگ میٹریل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

datetime 27  فروری‬‮  2024 |

رائے ونڈ ( این این آئی )بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ،سیمنٹ ،بجری ،ریت ،اینٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ،غریب آدمی چھت کے سائے سے محروم ہوگیا ۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں کنٹرول نہ ہونے سے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ہیں،تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عام آدمی کا گھر بنانے کا خواب ادھورا ہو کر رہ گیا ہے مہنگائی میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے سیمنٹ کی بوری 1280روپے ،سریا 250روپے فی کلو ،اینٹ فی ہزار 15000روپے ،بجری 130فی فٹ ،ریت کا ٹرالا23000روپے کا ہوجانے سے غریب آدمی کا مکان بنانے اور چھت کا حصول ناگزیر ہو چکا ہے ،بلڈنگ میٹریل کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر لوگوں نے اپنے تعمیراتی کام رکوا دئیے ہیں جس سے مزدور طبقہ بے روزگار ہو گیا ہے ،مزدور نے اپنی دیہاڑی میں بھی اضافہ کردیا ہے اسی طرح راج گیر ،مستری بھی منہ مانگی اجرت طلب کررہے ہیں رائے ونڈ اور گردونواح میں سیمنٹ ،بجری ،ریت ،اینٹ کی قیمتیں ڈیلر منہ مانگی وصول کررہے ہیں،

حکام کی غفلت کے باعث بلڈنگ میٹریل کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہ ہونے سے ہر ڈیلر من پسند ریٹ وصول کررہا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بہانہ بناکر مقامی سیمنٹ ڈیلرز نے ایکا کرکے 1280 روپے فی بوری ریٹ مقرر کردیا ہے سیمنٹ کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ سے جہاں تعمیراتی کام بند ہو ئے ہیں وہاں مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روزگاری کا شکار ہوکر رہ گئی ہے ،گزشتہ روز کئے گئے سروے میں معلوم ہوا ہے کہ صرف رائے ونڈ شہر میں 400سے زائد مزدور بلڈنگ میٹریل مہنگا ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہوئے ہیں جو روزگار کمانے کیلئے روزانہ اڈے پر آتے ہیں لیکن انہیں کام نہیں ملتا اور مایوس ہوکر واپس گھروں جارہے ہیں ایک ضعیف العمر مزدور کا کہنا تھا کہ مجھے دو ہفتوں سے کام نہیں ملا ،گھر کا واحد کفیل ہوں دو ہفتوں سے گھرمیں فاقے ہیں اگر مزدوری مل جائے تو ایک ہزار سے کم اجرت میں اپنے خاندان کو کیسے پالوں ، بلڈنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافے سے لوگوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے تعمیراتی کام ٹھپ ہونے سے سینکڑوں مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں مزدور طبقہ نے تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…