اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

سپریم کورٹ کا ڈاکٹرعاصم کو دوران حراست علاج کی بہترین سہولت فراہم کرنے کا حکم

datetime 3  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد/ کراچی(نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے رینجرز کو حکم دیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کو دوران حراست علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں جب کہ رینجرز نے سندھ ہائی کورٹ میں حلف نامے میں کہا کہ انہیں بہترین علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے سابق مشیر پٹرولیم اور سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عاصم کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت نے رینجرز کو حکم دیا کہ ڈاکٹر عاصم کو دوران حراست علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں جب کہ جسٹس دوست محمد کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ ایمرجنسی کی صورت میں امراض قلب کے ڈاکٹرز کو طلب کیا جائے۔ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل عابد زبیری نے عدالت میں کہا کہ رینجرز کے ڈاکٹر کے مطابق ڈاکٹر عاصم ٹھیک ہیں مگر انہوں نے کوئی تحریری رپورٹ نہیں دی جس پر جسٹس دوست محمد کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائیکورٹ نےڈاکٹرعاصم کی جان کےخطرے کااظہارکیا ہے لہذا ہمیں توازن رکھنا ہے کہ ڈاکٹرعاصم کی حفاظت اور علاج ساتھ ساتھ ہو جب کہ ان کو رینجرز کی حراست سے نکالنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔جسٹس سرمد جلال ڈاکٹر عاصم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو یقین ہے وہ اسپتال میں محفوظ رہیں گے، رینجرز کے پاس تو سیکیورٹی ہے مگر اسپتال بھیجنے پر سیکیورٹی مسئلہ نہ ہوجائے اس پر وکیل نے کہا کہ اسپتال میں بھی رینجرز ہوتی ہے، جسٹس دوست محمد نے جواب دیا کہ رینجرز ہیڈ کوارٹر میں تو کوئی پر بھی نہیں مارسکتا ایسانا ہو کہ ڈاکٹرعاصم باہرآئیں اورگولی یا چاقو کا وار ہوجائے جب کہ جسٹس سرمد کا کہنا تھا کہ کراچی میں ولی بابر کیس میں تمام گواہ اور سبین محمود کے قاتلوں کو ختم کردیا گیا تھا بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ میں ڈاکٹرعاصم کی اہلیہ کی درخواست کی سماعت میں رینجرزکے سیکٹر کمانڈرکرنل امجد کی جانب سے جوابی حلف نامہ جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ سندھ رینجرز کے پاس تمام سہولیات، مطلوبہ مشینری ، ماہرڈاکٹرز اور میڈیکل عملہ موجود ہے اور انہیں علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ کرنل امجد کا کہنا تھا کہ درخواست گزارکی جانب سے لگائے گئے الزامات جھوٹے اوربے بنیاد ہیں۔بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو جواب الجواب داخل کرانے کےلیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی اور رینجرز نے انہیں دوبارہ رینجرز ہیڈکوارٹر منتقل کردیا۔واضح رہے ڈاکٹر عاصم حسین کی اہلیہ زرین نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں جمع کررکھی ہیں جن میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود ڈاکٹرعاصم کوعلاج کی سہولیات مہیا نہیں کی جا رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…