منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایران نیوکلئیر پاور بن چکا، امریکی ماہر کا دعوی

datetime 22  فروری‬‮  2024 |

واشنگٹن(این این آئی)کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو اور انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل اکنامک گروتھ کے چیئرمین رچرڈ ڈبلیو رہن نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے پاس پانچ نیوکلئیر بم ہیں اور مئی تک ان کی تعداد ایک درجن تک ہو سکتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنے آرٹیکل میں رچرڈ نے لکھا کہ گزشتہ اکتوبر کے اوائل میں انٹیلی جنس اندازوں میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ ایران کے پاس ایک ہفتے کے اندر ایک بم بنانے کے لیے اور چھ ہفتوں کے اندر پانچ نیوکلئیر بموں کے لیے کافی افزودہ ہتھیاروں کے درجے کا یورینیم ہو سکتا ہے۔رچرڈ کا کہنا تھا کہ ایرانی شاید اس وقت تک نیوکلئیر بم پاس ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیں گے جب تک کہ ان کے پاس مختلف مقامات پر ایک درجن یا اس سے زیادہ آپریشنل بم موجود نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بم کا اعلان کرنا بے وقوفی ہوگی، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل اسے ڈھونڈنے اور تباہ کرنے کے لیے کافی کوششیں کریں گے، لیکن زیادہ مقامات پر زیادہ بم اس تباہی کی کوشش کو اگر تقریبا ناممکن نہیں تو پیچیدہ ضرور بنا دیتے ہیں۔رچرڈ کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کو ایرانی بموں کے وجود کو چھپانے یا ظاہر نہ کرنے کے لیے ایک مضبوط وجہ حاصل ہے، کیونکہ صدر بائیڈن کی جانب سے کئی برسوں کے دوران ایرانیوں کو نیوکلئیر بم رکھنے کی اجازت نہ دینے کے بار بار وعدے کیے گئے تھے۔رچرڈ کے مطابق اسرائیلیوں نے بھی عہد کیا کہ وہ ایران کو بم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اگر ایران کے پاس بہت سے ایٹمی بم ہیں تو اس کا مطلب اسرائیل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

رچرڈ کا کہنا تھا کہ قبل ازیں، یہ فرض کیا گیا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس اتنی اچھی ہے کہ ایرانی بم کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کے بارے میں خبردار کر سکتی ہے اور اسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ ماضی میں پروڈکشن اور ریسرچ کی سہولیات کو تباہ کر کے، ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں کو سبوتاژ کر کے، اور کلیدی سائنسدانوں کو قتل کر کے ایرانی بم پروگرام میں تاخیر کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ایرانیوں نے یقینا ان سابقہ نقصانات سے سبق سیکھا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں کہ ان کی سابقہ کمزوریاں کم ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…