جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو جرمانہ کردیا،وجہ انتہائی خاص

datetime 2  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے انصاف کی فراہمی میں تاخیر پرپنجاب حکومت کو جرمانے عائد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا، عدالت نے پہلے فیصلے میں ریٹائرڈ خاتون افسر کا پنشن کیس تیار کرنے میں تاخیرپر پنجاب حکومت کو بذریعہ محکمہ ہائر ایجوکیشن کمیشن 1لاکھ روپے جرمانہ کر دیا، ہائیکورٹ نے قرار دیاہے کہ یہ فیصلہ پنجاب کے تمام محکموں کیلئے وارننگ ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان کی طرف سے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیاہے کہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی خاتون افسر رفعت عباس دو ہزار چودہ میںریٹائر ہوئی مگر ایک سال گزرنے کے باوجود اس کا پنشن کیس تیار نہیں کیاگیا، فاضل جج کی طرف سے اس فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیتے ہوئے مزید کہاگیاہے کہ خاتون افسر کو ایک سال پنشن کیس مکمل کرنے کیلئے ذہنی اذیت اٹھانا پڑی جس کیلئے پنجاب حکومت کو بذریعہ محکمہ ہائر ایجوکیشن ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا تا ہے جو خاتون افسر کو ادا کیا جائیگا، حکومت اگر چاہے تویہ جرمانہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن سے وصول کر سکتی ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنشن ہر سرکاری ملازم کا بنیادی حق ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں تمام حکومتوں کو یہ حکم دے چکی ہے کہ ہر ملازم کی ریٹائرمنٹ کے پندرہ دن کے اندر اندر اسکا پنشن کیس مکمل کیاجانا چاہےے، اس فیصلے کے باوجود پنجاب حکومت نے خاتون افسر کے معاملے میں تاخیر پیدا کی، فیصلے کے مطابق پنجاب حکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے مناسب مواد موجود ہے مگر عدالت تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کی بجائے صرف جرمانہ عائد کررہی ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے سامنے جب یہ معاملہ آیاتو محکمہ ہائر ایجوکیشن اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن ایک دوسرے پر ذمہ ڈال کر فرار ہونے کی کوشش کرتے رہے جو ان کی بدنیتی کا ثبوت ہے، عدالت نے فیصلے میںپنجاب حکومت کوحکم دیا ہے کہ خاتون افسر کی پنشن کا کیس فوری مکمل کیا جائے اور اسے پنشن کے بقایا جات بھی ادا کئے جائیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…