بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی کے بل میں نمایاں کمی یا مکمل طور پر جان چھڑانے کا آسان ترین طریقہ

datetime 5  فروری‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہر خاص و عام بجلی کے زائد بلوں سے پریشان ہے۔بجلی کے زائد بلوں سے پریشان عوام اپنے گھر، دفتر یا دکان پر سولر پینل سسٹم لگوانے کے خواہشمند ہیں مگر اس لیے گھبراتے ہیں کہ شاید سولر پینل سسٹم کے لیے کم از کم 8 سے 10 لاکھ درکار ہوں گے۔ایسے افراد کے لیے خوشخبری ہے کہ سولر پینلز کی قیمت گزشتہ سال کی نسبت اب آدھی ہو گئی ہیں اور اب سولر پینل سسٹم کی تنصیب گزشتہ سال کی نسبت 35 سے 40 فیصد کی بچت کے ساتھ ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

گزشتہ سال کی نسبت سولر پینلز کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے، اس وقت سولر پینل کی فی واٹ قیمت 50 سے 60 روپے ہے جو کہ گزشتہ سال 120 روپے تھی۔سولر پینل سسٹم کی کل لاگت کا 70 فیصد حصہ پینلز کی قیمت پر منحصر ہوتا ہے، اگر پینلز کی قیمت 50 روپے سے زائد کم ہوئی ہے تو مکمل سولر سسٹم نصب کروانے والوں کا گزشتہ سال کی نسبت 35 سے 40 فیصد کم خرچ آئے گا۔ماہرین کے مطابق 5 مرلے کے گھر میں پانچ سے سات کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب کروایا جاتا ہے، جس کی مجموعی لاگت گزشتہ سال 12 سے 15 لاکھ روپے تک تھی تاہم اب سولر پینل سستے ہونے کے باعث اسی سسٹم کو 8 سے 10 لاکھ روپے میں نصب کروایا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب بڑے گھروں میں 10 سے 15 کلو واٹ کے سسٹم کی تنصیب پر آنیوالی لاگت گزشتہ سال 22 سے 25 لاکھ روپے تھی جسے اب 13 سے 15 لاکھ روپے میں ممکن بنایا جاسکتا ہے، اسی طرح چھوٹے گھروں میں 4 سے 5 لاکھ روپے اور بڑے گھروں میں 8 سے 10 لاکھ روپے کے کم خرچ پر سولر پینل سسٹم نصب کروایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…