منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

50سال بعد چاند پر بھیجا گیا امریکی مشن سمندر میں گر کر تباہ

datetime 19  جنوری‬‮  2024 |

نیویارک(این این آئی)گزشتہ ہفتے چاند پر بھیجے گئے امریکی خلائی جہاز میں فنی خرابی کے باعث کسی نقصان کے پیش نظر خلائی مشن کو بحرالکاہل کے اوپر خودکار نظام کے تحت تباہ کر دیا گیا تاکہ وہ سمندر میں گر کر غرقاب ہوجائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پیریگرین ون کو ایک پروپلشن کی خرابی کا سامنا کرنے پر پِٹسبرگ میں مقیم آسٹروبوٹک پرائیویٹ آپریٹر نے خلائی جہاز کو بحرالکاہل کے اوپر خود کو تباہ کرنے کا حکم دیدیا۔یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ تاکہ خلائی مشن کے سمندر پر گرنے سے کسی آبادی کو نقصان نہیں پہنچتا اور سمندر میں بھی اس وقت کوئی کشتی نہیں تھی جس کے نقصان کا احتمال نہیں تھا۔

اس حکم کی تعمیل میں خلائی مشن نے خود کار نظام کے تحت خود کو آگ لگالی اور مکمل طور پر جل کر باقیات سمندر میں گر کر غرقاب ہوگئیں۔خلائی مشن میں خرابی کی سب سے پہلے نشاندہی آسٹریلیا میں واقع ایک خلائی ادارے نے کی تھی جس نے خرابی کا سراغ ایک پھٹے ہوئے آکسیڈائزر ٹینک سے پروپیلنٹ کے رسنے سے لگایا تھا۔امریکا کے اس خلائی مشن کو پرواز کے فوری بعد ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم اس کے باوجود سائنس دان خلائی جہاز کو 8 جنوری سے 10 جنوری تک سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔

انجینئر کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کی تشخیص کرنے کے قابل تھے کہ خلائی مشن کے ساتھ کیا غلط ہوا ہے لیکن پھر بھی لینڈر کو اس سے کہیں زیادہ دیر تک درست حالت میں رکھنے کے قابل رہے جس کی خرابی سامنے آںے کے ابتدا میں بالکل امید نہیں کی جا رہی تھی۔خلائی انجینئرز نے کہا کہ خلائی مشن ایک سیکھنے کا کھیل ہے، خاص طور پر اس مرحلے پر اور ہمیں اسے ناکامی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

ہمیں اسے انجینئرنگ کی ایک ناقابل یقین کامیابی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ یک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ مشن مکمل طور پر برباد ہو گیا تھا لیکن انجینئرز اور سائنسدانوں کی ایک ٹیم مل کر مسئلہ حل کرنے اور خلائی جہاز کی کچھ صلاحیتوں کو بحال کرکے اسے زمین کی طرف لے جانے اور محفوظ طریقے سے تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

یاد رہے کہ اس خلائی مشن کا مقصد چاند کی سطح پر ناسا کے پانچ آلات پہنچانا تھا تاکہ اس دہائی کے آخر میں خلابازوں کی واپسی سے قبل مقامی ماحول کا مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ خلائی مشن اگر کامیابی سے اترنے میں کامیاب ہو جاتا تو یہ نصف صدی میں ایسا کرنے والا پہلا امریکی مشن بن جاتا۔آج تک صرف امریکا، سوویت یونین، چین اور بھارت کی سرکاری ایجنسیوں نے چاند پر لینڈنگ کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…