ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سولر پینلز کی جگہ سولر پینٹ کی نئی ٹیکنالوجی متعارف

datetime 15  جنوری‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)سولر پینٹ ٹیکنالوجی سستی توانائی کے حصول کا اچھا ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔ سولر پینلز کے مقابلے میں سولر پینٹ کے ذریعے زیادہ آسانی سے اور کم خرچ میں توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ذریعے تیار کیے جانے والے سولر پینٹ میں روشنی کے حوالے سے حساس اربوں ذرات شامل ہوتے ہیں۔ سولر پینٹ والی دیوار سولر پینل کا کردار ادا کرتی ہے۔ماہرین نے بتایا کہ سولر پینلز اگرچہ بہت کارآمد ہیں اور ان کی مدد سے سستی توانائی آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہے تاہم وہ خاصی بڑی ابتدائی سرمایہ کاری مانگتے ہیں۔ سولر پینلز اپنی طبعی عمر کے ختم ہونے تک لاگت کور کرچکے ہوتے ہیں تاہم بہت سے لوگ اپنی محدود آمدنی کے باعث چھت پر سولر پینلز نہیں لگوا پاتے۔

سولر ایکشن الائنس نے کہا کہ دنیا بھر میں لوگ سستی توانائی کے حصول کے لیے سولر پینٹ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اسے فوٹو وولٹائک پینٹ بھی کہا جاتا ہے۔جس دیوار پر سولر پینٹ کیا گیا ہو اس پر جب سورج کی روشنی پڑتی ہے تو وہ سولر پینلز کی طرح کام کرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی توانائی حاصل کرنے کے لیے سرکٹ لگانا پڑتا ہے۔سولر ایکشن الائنس نے بتایا ہے کہ امریکا کی یونیورسٹی آف بفیلو کے محققین نے روشنی کے حوالے سے ایسا حساس مٹیریل تیار کیا ہے جو سولر پینٹ میں استعمال کیا جائے گا۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے ماہرین نے ایسا اسپرے تیار کیا ہے جو بنیادی طور پر سولر وال پیپر کا کردار ادا کرے گا۔اس مٹیریل کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرنے والے پوسٹ ڈاکٹورل فیلو ایلان کریمر کہتے ہیں کہ سولر پینٹ کا بنیادی مقصد توانائی کے حصول کو انتہائی آسان بنانا ہے۔سولر پینٹ کو تجارتی بنیاد پر کامیابی سے ہم کنار کرنے کی راہ میں بڑی دیوار یہ ہے کہ سولر پینلز سورج کی روشنی سے 20 فیصد کی حد تک توانائی کشید کرتے ہیں جبکہ سولر پینٹ اب تک 8 فیصد تک پہنچا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ 10 فیصد پیداوار یقینی بنانے کی صورت میں سولر پینٹ بھی تجارتی پیمانے پر زیادہ آسانی سے قابلِ قبول ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…