ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

غیر معیاری مچھلی برگر اور شوارما کی خرید و فروخت عروج پر

datetime 2  جنوری‬‮  2024 |

ننکانہ صاحب(این این آئی)غیر معیاری مچھلی برگر اور شوارما کی خرید و فروخت عروج پر ہوٹلوں پر ٹوٹے برتن مضر صحت کھانوں کی فروخت جاری ضلعی انظامیہ خاموش تماشائی بن گئی۔تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں غیر معیاری تیل سے تیار مچھلی اور برگر شوارما کھانے سے شہری گلہ،پیٹ کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہر دوکاندار نے اپنے اپنے ریٹ آویزاں کئے ہوئے ہیں لیکن ضلعی انتظامیہ نہ تو ریٹ کو چیک کرتی ہے اور نہ ہی اس کی کوالٹی معیار کو چیک کرتی ہے جبکہ ہوٹلوں ٹی اسٹالوں پر ٹوٹے برتنوں اور مضر صحت کھانوں کی فروخت کر کے دوکاندار شہریوں میں بیماریاں بانٹ رہے ہیں جبکہ محکمہ فوڈ نے منتھلیوں کے عوض ایسے مضر صحت کھانے فروخت کرنیوالے ہوٹل مالکان کو بیماریاں بانٹنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے شہریوں نے بتایا کہ محکمہ فوڈ سے قبل ملاوٹ مافیا مضر صحت کھانوں اور مضر صحت اشیائ کی چیکنگ محکمہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ تھا تو شکایت پر فوری کاروائی کے ساتھ ایکشن لیا جاتا تھا مگر جب سے محکمہ فوڈ کے سپرد کیا گیا ہے تو ہر طرف ملاوٹ مافیا کا راج ہے شہریوں نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب،کمشنر لاہور ڈویڑن اور ڈپٹی کمشنرننکانہ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…