اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

شہید حاجیوں کی درست تعداد بتائی جائے, لاہور ہائی کورٹ

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو منیٰ حادثے میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کی درست تعداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔بدھ کے روز درخواست گزار عارف ادریس نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ڈی جی اور ڈائریکٹر جج (جدہ) نے منیٰ حادثے سے متعلق اصل صورت حال کو خفیہ رکھا ہوا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام سے پاکستانی حجاج کے بارے تمام ریکارڈ طلب کیا جائے اور بتایا جائے کہ کتنے پاکستانی حجاج شہید، زخمی اور لاپتہ ہیں۔ہائیکورٹ کی جج عائشہ اے ملک نے وزارت مذہبی امور اور ڈی جی حج کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت چھ اکتوبر تک ملتوی کردی۔دوسری جانب انڈونیشیا نے سانحہ منیٰ پر سعودی عرب کی سست رفتاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے سفارت خانے کو جاں بحق اور زخمی انڈونیشین حجاج تک رسائی سانحے کے 4 دن بعد یعنی پیر کی رات کو دی گئی۔انڈونیشین سفارت خانے کے ایک اہلکار لالو محمد اقبال نے بتایا کہ سانحے میں 46 انڈونیشین حجاج شہیداور 10 زخمی ہوئے جبکہ 90 لاپتہ ہیں۔ایران کی جانب سے بھی سانحہ منیٰ میں حجاج کی ہلاکتوں پر سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں کم از کم 239 ایرانی شہید جبکہ 241 لاپتہ ہیں۔خیال رہے کہ سانحے میں مجموعی طور پر شہید ہونے والوں کی تعداد 769 ہے جبکہ اب تک 45 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔گزشتہ پچیس سالوں میں حج کے دوران یہ سب سے مہلک واقعہ تھا جس کے دوران اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں پیش آئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…