جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے عدلیہ اور پولیس سمیت پاکستان کے کرپٹ ترین اداروں کی فہرست جاری کردی

datetime 11  دسمبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں کرپٹ اداروں کی فہرست جاری کردی ہے جس میں پولیس کا پہلا نمبر، اس کے بعد ٹھیکے دینے کا شعبہ اور تیسرے پر عدلیہ کو سب سے کرپٹ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم اور صحت چوتھے اور پانچویں کرپٹ ترین شعبے ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے قومی کرپشن سروے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پولیس پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے، 68 فیصد پاکستانیوں کو یقین ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے سیاسی شکار کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔تعلیم اور صحت کے شعبے بالترتیب چوتھے اور پانچویں کرپٹ ترین شعبے ہیں۔ مقامی حکومتیں، لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ کسٹم، ایکسائز اور انکم ٹیکس چھٹے، ساتویں اور آٹھویں بدعنوان ترین ادارے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قومی سطح پر کرپشن کے بڑے مقدمات میں 40 فیصد میرٹ کی قلت ہے۔ صوبائی سطح پر سندھ میں 42 فیصد، خیبر پختونخوا میں 43 فیصد، بلوچستان میں 47 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ میرٹ پر کام نہیں ہوتے۔پنجاب میں 47 فیصد شہریوں کاخیال ہے کہ بیوروکریسی ریاستی اداروں کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتی ہے اور یہی پاکستان میں کرپشن کی بڑی وجہ ہے۔

پچھتر فیصد شہری سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ سیکٹر کے پاس بہت طاقت اور اثر ورسوخ ہونے کی وجہ سے کرپشن ہوتی ہے۔55 فیصد پاکستانیوں کے مطابق حکومت کو فوری طور پر سرکاری افسران کے اثاثے اپنی ویب سائٹس پر جاری کرنے چاہئیں اور کرپشن کے مقدمات 30 دن اندر بھگتانے چاہئیں۔47 سے 62 فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ کرپشن پاکستان کی ترقی کا راستہ روکنے اور ماحولیاتی تباہی کو بڑھانے کی بڑی وجہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…