بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ایف آئی اے دہشتگردی، منی لانڈرنگ اور سائبر کرائمز کے مقدمات درج کرسکے گی

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں ایف آئی اے کے اختیارات کا دائرہ کار بڑھا دیا اور اس سلسلے میں تحقیقاتی ادارے میں قائم انسداد دہشت گردی ونگ کو پولیس اسٹیشن کا درجہ دے دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے باقاعدہ حکم نامہ بھی جاری کردیا ہے۔جنگ رپورٹر اعزا ز سید کے مطابق نمائندے کو دستیاب حکم نامے کی نقل کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے کاﺅنٹر ٹیررازم ونگ کے پولیس اسٹیشن کا دائرہ کار پورا ملک کو قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے انسداد دہشت گرد ی ونگ کو یہ اختیارات ایف آئی اے ایکٹ 1974کی روشنی میں دئیے گئے ہیں۔ دستاویز کے مطابق ایف آئی اے کے کاﺅنٹر ٹیررازم ونگ کو ملک بھر میں انسد ا د دہشت گردی ، منی لانڈرنگ اور سائبر کرائمز کے مقدمات درج کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ حکم نامے کے تحت اس ونگ کو تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت کارروائی کا اختیار بھی دیا گیا ہے جس کے تحت اب ایف آئی اے کا کاﺅنٹر ٹیررازم ونگ ملک بھر میں کسی بھی شخص کو 90روز کے لیے حراست میں لے سکے گا۔ ایف آئی اے کے اس شعبہ کو پہلی بار تحفظ پاکستان ایکٹ کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ بعض حکام کا کہنا ہے کہ وزیرداخلہ چوہدری نثا ر علی خان کی منظوری سے جاری کیا گیا یہ حکم نامہ دراصل آنے والے دنوں میں ایف آئی اے کے اس شعبے کو مزید متحرک بنائے گا جس میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس ، ممبئی حملہ کیس اور بے نظیر بھٹو قتل کیس جیسے اہم مقدما ت پہلے ہی زیر تفتیش ہیں۔ اس اختیار کے تحت یہ ونگ نہ صرف مقدمات درج کرنے کر سکے گا بلکہ عدالتوں میں اپنے مقدمات کی پیروی کے اختیارات کا حامل بھی ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…