اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

جہانگیرترین کاوکیل عدالت میں مسلسل خاموش کیوں رہا؟ایک سیاستدان کاعجیب وغریب انکشاف

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور این اے 154 لودھراں سے امیدوار خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے وکیل نے سپریم کورٹ میں دانستہ دلائل نہ دیکر سٹے آرڈر کی راہ ہموار کی۔ یہ سٹے آرڈر دونوں امیدواروں کے درمیان خاموش مفاہمت کا شاخسانہ ہے۔ حلقہ این اے 154 میں عوامی تحریک کی جاندار انتخابی مہم کی وجہ سے شیر اور بلا سہمے ہوئے تھے۔ خواجہ عامر فرید کوریجہ نے سٹے آرڈر کے حوالے سے فیصلہ آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ جہانگیر ترین کو اس بات کی وضاحت کرنا پڑے گی کہ ان کا وکیل کیوں خاموش رہا اور ان کا اندر کھاتے ن لیگ کے امیدوار کے ساتھ کیا مک مکا ہوا؟ یہ بات حلقہ اور پاکستان کے عوام کسی صورت ہضم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ ملکی سطح پر توجہ حاصل کرنے والے کیس میں جہانگیر ترین کے وکیل نے یہ کہہ کر فلور مخالف امیدوار کی حمایت میں خالی چھوڑ دیا کہ اس کی تیاری نہیں ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں ٹھوس آئینی و قانونی دلائل رقم کرتے ہوئے صدیق بلوچ کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دیا۔ جہانگیر ترین کے وکیل کو مزید کس قسم کے دلائل اور تیاری کی ضرورت تھی؟ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مک مکا کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے سپریم کورٹ کا فلور استعمال کیا گیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی اس کا نوٹس لینا ہو گا کہ ٹربیونل کے اندر ان کے امیدواروں کا کیس لڑتے وقت جو جوش و خروش تھا وہ سپریم کورٹ کے فلور پر ٹھنداکیوں پڑ گیا؟خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے امیدوار کی جیت کے خوف سے دونوں حریف حلیف بننے پر مجبور ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سٹے آرڈر کے کیس میں فریق بننے کیلئے وکلاءسے مشاورت شروع کر دی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…