اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

افغان حکومت نے پاکستان سے واپس جانے والے شہریوں کو قبول کرنے سے انکار،ان کی اپنی ہی زمین ان کیلئے تنگ کردی

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

کابل (این این آئی)افغان حکومت نے پاکستان سے واپس جانے والے شہریوں کو قبول کرنے سے انکارکرتے ہوئے ان کی اپنی ہی زمین ان کے لیے تنگ کردی۔وائس آف امریکہ کے مطابق پاکستان میں مقیم 37 لاکھ افغان شہریوں میں سے 17 لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد 7 لاکھ سے زائد افغان شہری فرار ہوکر پاکستان آئے، ملکی سالمیت کے پیش نظر حکومت پاکستان نے غیر قانونی افغان باشندوں کو اپنے ملک واپس جانے کا حکم دیا،افغان باشندوں کو اپنے ملک افغانستان واپس پہنچنے پر بیشمار دشواریوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے، افغان حکومت نیاپنیشہریوں پراپنا سامان ساتھ لانے پربھی پابندی عائدکردی،افغان شہریوں کو اپنے ملک میں داخل ہونیکی اجازت نہ دینا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اپنے ضروری سامان سے محرومی کے باعث افغان شہری اپنے ہی ملک میں روزگار کمانے سے قاصرہیں،حکومت اور شہریوں کے مابین ریاستی معاہدے کا تقاضہ ہے کہ افغان حکومت اپنے شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دے اور انہیں تمام سہولیات بھی فراہم کرے۔ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے والے حکمران نہیں بلکہ ملک دشمن عناصر کہلائے جاتے ہیں۔افغان شہریوں نے کہا کہ چالیس سال پہلے ہم افغانی پاکستان آئے تھے اور پاکستان حکومت نے ہمیں اجازت دی کہ ہم اپنا سامان بھی لے آئیں،اب افغان حکومت کو بھی چاہیے کہ ہمارا سامان وہاں لے کر جانے کی اجازت دے تاکہ ہم اپنا روزگار چلا سکیں۔ان کے پاس اپنی مشینیں اورگھرکا سامان ہے۔

انہیں پاکستان میں جو سہولیات مل رہی تھیں وہ افغانستان میں بھی مل جائیں تو ہم بہت خوش ہونگے۔ماضی میں بھی ڈنمارک، برطانیہ، ناروے اور کئی دیگر ممالک مہاجرین کو ان کے ملک کے حالات بہتر ہونے پر واپس بھیج چکے ہیں،تمام ممالک نے نہ صرف اپنے شہریوں کو واپس قبول کیا بلکہ انہیں تمام حقوق اور سہولیات بھی فراہم کیں۔کیا اپنے ہی شہریوں کو مسترد کرنے والے ریاستی حکمران کہلانے کے قابل ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…