منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حضرت نظام الدین کا عرس، بھارت نے پاکستانی زائرین کو ویزے نہیں دیئے

datetime 29  اکتوبر‬‮  2023 |

لاہور(این این آئی) حضرت نظام الدین اولیاکے 720 ویں سالانہ عرس میں شرکت کے لیے بھارتی حکومت کی طرف سے ابھی تک پاکستانی زائرین کو ویزے نہیں مل سکے ہیں۔عرس کی تقریبات بھارتی دارالحکومت میں 28 اکتوبر سے شروع ہونے کا بتایاگیا جو 5 نومبر تک جاری رہیں گی، جس میں شرکت کے لیے 250 پاکستانی زائرین نے واہگہ کے راستے بھارت روانہ ہونا تھا لیکن انہیں ابھی تک بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے ویزا نہیں مل سکا ہے۔

پاکستانی زائرین نے وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کے ذریعے درخواستیں جمع کروائی تھیں۔ درخواست دہندگان کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ حاجی کیمپ لاہور پہنچیں اور یہاں سے اپنی سفری دستاویزات وصول کرلیں۔ گزشتہ روز زائرین کی بڑی تعداد حاجی کیمپ لاہور میں پہنچی اور رات گئے تک پاسپورٹ ملنے کا انتظار کرتی رہی لیکن بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے پاسپورٹ واپس نہیں بھیجے گئے۔وفاقی وزارت مذہبی امور کے حکام نے بتایا کہ زائرین کے ویزوں کے حوالے سے وزارت خارجہ کے توسط سے بھارتی سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن ابھی تک بھارتی سفارتخانے نے پاکستانی زائرین کو ویزے دینے یا ان کی درخواستیں مسترد ہونے سے متعلق کچھ نہیں بتایا ہے۔

حکام کے مطابق آج ہفتہ کی چھٹی ہے لیکن وہ آج بھی بھارتی سفارتخانے سے رابطہ کریں گے۔ تمام زائرین کو پیغام پہنچایا جارہا ہے کہ ابھی حاجی کیمپ لاہور نہ پہنچیں۔جب ویزے مل جائیں گے تو تمام زائرین کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع کردی جائے گی۔اْدھر بھارتی سفارتخانے کے ذرائع نے بتایا کہ انہیں ابھی تک پاکستانی زائرین کو ویزے دینے سے متعلق نئی دہلی سے اجازت نہیں مل سکی۔

واضح رہے کہ 1974ء کے پاک بھارت مذہبی سیاحت کے معاہدے کے تحت بھارت حضرت نظام الدین اولیا کے عرس میں شرکت کے لیے 250 پاکستانی زائرین کو ویزے دینے کا پابند ہے لیکن بھارتی سفارتخانے کی طرف سے پاکستانی زائرین کو ویزے فراہم کرنے میں اکثر تاخیر کی جاتی ہے یا پھر عین موقع پر ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔دوسری جانب پاکستان مذہبی سیاحت کے اسی معاہدے کے تحت نومبر میں 3 ہزار بھارتی سکھ یاتریوں کو باباگورونانک دیو جی کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…