ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستانیوں کے باہر تقریباً 120 ارب ڈالرز، بڑا اسکینڈل آنے کو تیار

datetime 29  اکتوبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)ٹیکس چوری کے حوالے سے جاری کی جانے والے ”گلوبل ٹیکس کمیشن رپورٹ” میں کہا گیا ہے کہ آف شور اکاؤنٹس میں پاکستانیوں کے 19 ارب 20 کروڑ ڈالرز موجود ہیں، اور اس میں آدھی سے زیادہ رقم سے دبئی میں رئیل اسٹیٹ کے اندر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پانامہ لیکس کے بعد پاکستانیوں نے بڑی تعداد می سوئس بینک سے اپنی رقم منتقل کی ہے اس حوالے سے ماہر مالیاتی امور ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ بینفیشل آف شور کا جو قانون بنایا گیا وہ پاکستان میں بھی نافذ کیا گیا کہ اگر آپ کا باہر کسی بھی کمپنی میں کوئی بھی بینیفیشل انٹرسٹ ہے چاہے وہ ٹرسٹ کی شکل میں ہو یا آف شور کمپنی کی صورت میں تو آپ اس کو ڈکلئیر کردیں، اس کی حد رکھی گئی تھی کہ 10 فیصد بھی آپ کا انٹرسٹ ہے تو آپ کو اسے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور انکم ٹیکس کے ریٹرن میں ڈکلئیر کرنا ہوگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں ڈاکٹر اکرام الحق نے ”گلوبل ٹیکس کمیشن رپورٹ” کے حوالے سے کہا کہ کیونکہ یہ رپورٹ پرانی ہے تو اس میں جو اعداد بتائے گئے ہیں وہ کم ہیں، اس میں کافی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ‘پاکستانیوں کی صرف ڈکلئیرڈ رقم ہی اس سے زیادہ ہے، اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے جو بیان دیا گیا تھا اس وقت کے چیئرمین صاحب نے، وہ یہی تھا کہ 74 ارب کے اثاثے ڈالرز کی صورت میں وائٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ120 بلین ڈالرز کا تو اندازہ رکھیے کہ اتنے مختلف شکلوں میں باہر ہیں۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ ہمیں ابھی ورجن آئی لینڈ کے بارے میں تو پتا بھی نہیں ہے، کیونکہ ‘یکم جنوری 2024 سے دنیا میں ایک نیا قانون نافذ ہوگا جس میں ان ٹیکس ہیونز کا ڈیٹا ملنے کا امکان ہے۔انہوںنے کہاکہ پانامہ لیکس میں جن 475 لوگوں کے نام آئے تھے انہوں نے 2018ـ19 میں ایمنسٹیز کے زریعے سب وائٹ کرلیا، یہ بہت افسوسناک بات تھی کہ ایک فرد واحد کو نشانہ بنایا گیا اور باقی سب کو ایمنسٹی دے دی گئی۔ ان کو بھی ایمنسٹی دے دیتے۔انہوں نے کہا کہ ابھی ڈیڈ لائن رکھی گئی ہے کہ جو ٹیکس ہیونز ہیں وہاں چاہے آپ کا کوئی ٹرسٹ ہو یا کمپنی انہیں بینیفیشل اونرز کے نام دینے پڑیں گے اور کسی کو بھی یہ ڈیٹا لینے کا حق حاصل ہوگا،اس سے بہت بڑی کھلبلی مچے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…