اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

پاکستانیوں کے باہر تقریباً 120 ارب ڈالرز، بڑا اسکینڈل آنے کو تیار

datetime 29  اکتوبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)ٹیکس چوری کے حوالے سے جاری کی جانے والے ”گلوبل ٹیکس کمیشن رپورٹ” میں کہا گیا ہے کہ آف شور اکاؤنٹس میں پاکستانیوں کے 19 ارب 20 کروڑ ڈالرز موجود ہیں، اور اس میں آدھی سے زیادہ رقم سے دبئی میں رئیل اسٹیٹ کے اندر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پانامہ لیکس کے بعد پاکستانیوں نے بڑی تعداد می سوئس بینک سے اپنی رقم منتقل کی ہے اس حوالے سے ماہر مالیاتی امور ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ بینفیشل آف شور کا جو قانون بنایا گیا وہ پاکستان میں بھی نافذ کیا گیا کہ اگر آپ کا باہر کسی بھی کمپنی میں کوئی بھی بینیفیشل انٹرسٹ ہے چاہے وہ ٹرسٹ کی شکل میں ہو یا آف شور کمپنی کی صورت میں تو آپ اس کو ڈکلئیر کردیں، اس کی حد رکھی گئی تھی کہ 10 فیصد بھی آپ کا انٹرسٹ ہے تو آپ کو اسے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور انکم ٹیکس کے ریٹرن میں ڈکلئیر کرنا ہوگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں ڈاکٹر اکرام الحق نے ”گلوبل ٹیکس کمیشن رپورٹ” کے حوالے سے کہا کہ کیونکہ یہ رپورٹ پرانی ہے تو اس میں جو اعداد بتائے گئے ہیں وہ کم ہیں، اس میں کافی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ‘پاکستانیوں کی صرف ڈکلئیرڈ رقم ہی اس سے زیادہ ہے، اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے جو بیان دیا گیا تھا اس وقت کے چیئرمین صاحب نے، وہ یہی تھا کہ 74 ارب کے اثاثے ڈالرز کی صورت میں وائٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ120 بلین ڈالرز کا تو اندازہ رکھیے کہ اتنے مختلف شکلوں میں باہر ہیں۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ ہمیں ابھی ورجن آئی لینڈ کے بارے میں تو پتا بھی نہیں ہے، کیونکہ ‘یکم جنوری 2024 سے دنیا میں ایک نیا قانون نافذ ہوگا جس میں ان ٹیکس ہیونز کا ڈیٹا ملنے کا امکان ہے۔انہوںنے کہاکہ پانامہ لیکس میں جن 475 لوگوں کے نام آئے تھے انہوں نے 2018ـ19 میں ایمنسٹیز کے زریعے سب وائٹ کرلیا، یہ بہت افسوسناک بات تھی کہ ایک فرد واحد کو نشانہ بنایا گیا اور باقی سب کو ایمنسٹی دے دی گئی۔ ان کو بھی ایمنسٹی دے دیتے۔انہوں نے کہا کہ ابھی ڈیڈ لائن رکھی گئی ہے کہ جو ٹیکس ہیونز ہیں وہاں چاہے آپ کا کوئی ٹرسٹ ہو یا کمپنی انہیں بینیفیشل اونرز کے نام دینے پڑیں گے اور کسی کو بھی یہ ڈیٹا لینے کا حق حاصل ہوگا،اس سے بہت بڑی کھلبلی مچے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…