بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

منیٰ حادثے میں لاپتا ہونیوالے 300 سے زائد پاکستانی کون ہیں،خصوصی رپورٹ

datetime 27  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)منیٰ حادثے میں لاپتا ہونیوالے 300 سے زائد پاکستانیوں کا تاحال کچھ پتا نہ چل سکا۔نجی ٹی وی کے مطابق حادثے میں لاپتہ ہونیوالے فصیل آباد کے خالد ¾حید آباد کے نصیر ¾پشاور کے شیرافضل اور لاہور کی ردا سمیت 3سو سے زائد پاکستانیوں کا وزارت حج اور دفتر خارجہ کچھ پتا نہ لگا سکے۔ چوتھے روز بھی لاپتہ پاکستانی حجاج کی تلاش کا سلسلہ جاری رہا لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں سے رابطہ نہ ہونے پرسخت پریشانی میں مبتلا ہیں حادثے میں کئی مسلمان شہید اور کئی تاحال لاپتہ ہیںجن کے پیارے ان کی زندگی کیلئے دعائیں مانگتے رہے ۔پاک عرب سوسائٹی لاہورکی 32سالہ ردا ایمان سعودی ائرلائن میں ائر ہوسٹس ہیں اور ایک سال سے سعودی عرب میں ہی مقیم ہیں ،سانحہ منیٰ کے بعد ردا کا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ، ان کی والدہ بیٹی کے لاپتا ہونے پر غم سے نڈھال ہیں ۔ردا کے بھائی کے مطابق ٹی وی پر خبر چلنے کے بعد انہوں نے بہن سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر انھیں ردا کے بارے میں بتانے والا کوئی نہیں۔فیصل آباد کے علاقے مدینہ ٹاﺅن کے رہائشی خالد رمانی بھی منیٰ واقعے کے بعد سے لاپتا ہیں،ان کی بیوی اور سالی زخمی ہیں۔حیدرآباد کے علاقے عثمان آباد کے رہائشی 85 سالہ اللہ مہرقریشی اور ان کے 52 سالہ بیٹے نصیر احمد کا بھی اب تک کچھ پتا نہیں۔لطیف آباد نمبر 12 کے رہائشی اطہرعلی خان اور انکی اہلیہ سلمیٰ بیگم بھی لاپتا ہیں۔ٹنڈوالہ یار کے 25 سالہ عنیب کے گھروالے بھی اذیت میں مبتلا ہیں ،چکوال کے محمد جعفر امام اورلکی مروت کی بیگم جان زوجہ شہاب بھی منی واقعے کے بعد سے لاپتا ہیں۔پشاور میں سردار احمد جان کالونی کے شیر افضل،گلبرگ نمبر دو کے عمران گل، ہزار خوانی کے صالح محمد اور بخشو پل کے صلاوت کا بھی تاحال کچھ معلوم نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…