منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی،کم عمر گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنے والا جوڑا گرفتار

datetime 31  اگست‬‮  2023 |

راولپنڈی (این این آئی)راولپنڈی پولیس نے بحریہ ٹاؤن میں 8 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنے کے الزام میں ایک جوڑے کو گرفتار کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گرفتار جوڑے کے خلاف بحریہ ٹاؤن پولیس چوکی میں رحیم یار خان کی تحصیل خان پور کٹورا کے رہائشی فضیل احمد نے مقدمہ درج کرایا۔فضیل احمد نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی 8 سالہ بیٹی کو ڈاکٹر کوثر کے کہنے پر بحریہ ٹاؤن کے ایک گھر میں کام کرنے کے لیے بھیجا تھا، ڈاکٹر کوثر نے انہیں کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اس کی بیٹی کے کے گھر بھیج دیں۔

ایف آئی آر کے مطابق لڑکی چھ ماہ تک ڈاکٹر کی بیٹی کے گھر پر رہی اور اسے ماہانہ 6 ہزار روپے تنخواہ دی گئی، شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ 25 اگست کی رات کو جوڑے نے بچی پر تشدد کیا جس کی وجہ سے اس کی کہنیاں فریکچر ہوگئیں اور انگلیوں پر زخم آئے۔شکایت کنندہ نے کہا کہ میری بیٹی کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات ہیں، بچی کو مالکان کی جانب تذلیل کا نشانہ بھی بنایا گیا، انہوں نے اس کے بال کاٹ دیے اور اس کے سر پر چوٹوں کے نشانات بھی ہیں۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ 26 اگست کو بچی رحیم یار خان ضلع میں اپنے والدین کی رہائش گاہ پر نہیں آئی بلکہ مالکان کے گھر سے نکلنے کے بعد ہری پور میں خان پور ڈیم چلی گئی، والدین کو مقامی لوگوں کی جانب سے خانپور ڈیم میں بیٹی کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ایف آئی آر کے مطابق لڑکی نے بتایا کہ اس سے قبل بھی اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مالکان اسے بڑے چمچوں اور ڈنڈوں سے مارتے تھے۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ جب والدین نے مالکان سے اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ کسی مزدور کے ساتھ فرار ہو گئی، ایف آئی آر میں کہا کہ یہ الزامات جھوٹے اور بے بنیاد تھے، ایف آئی آر کے اندراج کے بعد پولیس نے جوڑے کو تشدد کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سی پی او سید خالد ہمدانی نے کہا کہ واقعے کے منظر عام پر آنے کے فوری بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے جوڑے کو حراست میں لے لیا، انہوں نے کہا کہ کیس کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔گزشتہ ماہ اسی طرح کا ایک کیس سامنے آیا تھا جس میں نابالغ گھریلو ملازمہ کو وفاقی دارالحکومت میں سول جج کی رہائش گاہ پر مالکان نے ”شدید تشدد” کا نشانہ بنایا تھا۔اس کے بعد جج کی اہلیہ کو ضمانت مسترد ہونے کے بعد پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…