منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انتخابات میں ممکنہ تاخیر نواز شریف کو اپنے کیسز نمٹانے کے لیے مزید وقت فراہم کرے گی ، ذرائع

datetime 17  اگست‬‮  2023 |

اسلام آبا د(این این آئی)مسلم لیگ (ن)کی قیادت نے پارٹی سربراہ نواز شریف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے امکان پر گزشتہ روز تبادلہ خیال کیا، ضمانت ملنے کی صورت میں ان کی لندن سے واپسی کی راہ ہموار ہوگی جہاں وہ تقریبا 4 برس سے مقیم ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے سینیئر رہنما اور قانونی ماہرین گزشتہ چند روز سے نواز شریف کی واپسی کے لیے صحیح وقت اور ان مقدمات پر غور کررہے ہیں جن کا انہیں پاکستان میں سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق کچھ معاملات طے پا جائیں تو صدر مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے بڑے بھائی سے ملنے لندن روانہ ہوں گے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر سب کچھ پارٹی کے منصوبے کے مطابق ہوا، یعنی اگر نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تو وہ اسلام آباد پہنچ جائیں گے جہاں وہ پریڈ گرانڈ میں جلسے سے خطاب کریں گے۔منصوبے کے مطابق وہ جلسے کے بعد جی ٹی روڈ سے لاہور چلے جائیں گے، جہاں مریم نواز اور حمزہ شہباز مل کر پنجاب بھر کے پارٹی کارکنان کو متحرک کرنے کے لیے ایک تاریخی ریلی کا اہتمام کریں گے، جس سے نواز شریف خطاب کریں گے تاہم اس پلان میں آخری لمحات میں تبدیلی کا امکان ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ نواز شریف وطن واپسی پر اسلام آباد کے بجائے لاہور ہی پہنچیں اور جلسے سے خطاب کریں۔حال ہی میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف ستمبر میں وطن واپس آئیں گے، تاہم پارٹی کے کچھ سینئر رہنماں کا خیال ہے کہ نواز شریف کو عام انتخابات سے ایک یا 2 ماہ قبل واپس آنا چاہیے، حلقہ بندیوں کے سبب آئندہ برس مارچ تک عام انتخابات موخر ہونے کا امکان ہے۔

مسلم لیگ (ن)کے حلقوں کے مطابق نواز شریف تب ہی وطن واپس آئیں گے جب انہیں پاکستان میں درپیش مقدمات میں ریلیف ملے گا۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کی واپسی میں تاخیر یہ ظاہر کرتی ہے کہ واپسی کا ٹکٹ بک کروانے سے پہلے ابھی بھی انہیں کچھ یقین دہانیاں درکار ہیں، فروری یا مارچ تک انتخابات میں ممکنہ تاخیر نواز شریف کو اپنے کیسز نمٹانے کے لیے مزید وقت فراہم کرے گی۔

یاد رہے کہ نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز اور ایون فیلڈ کرپشن کیسز میں سزا سنائی گئی تھی، العزیزیہ ملز ریفرنس میں انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 برس کے لیے قید کردیا گیا تھا تاہم کچھ ہی عرصے بعد انہیں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

دریں اثنا شہباز شریف نے کہا کہ بطور وزیراعظم ان کا 16 ماہ کا دور ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔انہوں نے گزشتہ روز آئندہ انتخابات اور پارٹی کے تنظیم امور کے حوالے سے ملک احمد خان اور سعد رفیق سے ماڈل ٹاون میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران شہباز شریف نے دونوں پارٹی رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے دور حکومت میں سیاست کے بارے میں نہیں صرف عوام کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…