منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کاغذات نامزدگی میں اثاثوں اور دوہری شہریت پر بیان حلفی نہ لینے کی سفارش

datetime 20  جولائی  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے الیکشن کمیشن کو امیدواروں سے ان کے اثاثوں اور دوہری شہریت سے متعلق بیان حلفی نہ لینے کی سفارش کر دی۔بدھ کو ں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس محمد ابوبکر کی زیر صدارت ہوا جس میں کاغذات نامزدگی کے فارم اے اور بی کا معاملہ زیر غور ا?یا۔بیان حلفی کے یہ فارم امیدوار کی دوہری شہریت اور اس کے اثاثوں اور واجبات سے متعلق ہیں

قائمہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ یہ بیان حلفی نہ لیے جائیں۔قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 میں بیان حلفی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں بیان حلفی لازمی قرار دیا تھا۔قائمہ کمیٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایکٹ کے تحت چلیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون سے اوپر نہیں ہے۔خیال رہے کہ جون 2018 میں سپریم کورٹ نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی بھی جمع کرانے کا حکم دیا تھا جس میں وہ تمام معلومات درج ہوں گی جو اس کے اثاثوں اور غیر ملکی شہریت کے بارے میں ہیں۔

اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کیکاغذات نامزدگی سے متعلق فیصلے پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ آپ لوگ عوام کو امیدواروں کی معلومات دینے میں شرمندہ کیوں ہیں؟ اسپیکر کیوں شرما رہے ہیں کہ عوام کو اپنے نمائندوں کی معلومات نہ ہوں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت فارم بنایا گیا تھا، پاکستان کے عوام کو انتخابات لڑنے والے کے بارے میں جاننیکا حق ہے اور الیکشن کمیشن کو اختیار حاصل ہے وہ مناسب معلومات طلب کرسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…