ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی ریگولیٹر نے لیبارٹری میں تیار چکن بیچنے کی منظوری دیدی

datetime 22  جون‬‮  2023 |

واشنگٹن (این این آئی)ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے پہلی مرتبہ دو کمپنیوں کو جانوروں کے خلیوں سے بنائے گئے چکن کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اجازت سے لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت صارفین کو پیش کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ایجنسی کے ایک ترجمان نے فرانسیسی ٹی وی کو بتایا کہ امریکہ کے محکمہ زراعت نے اپسائیڈ فوڈز اور گڈ میٹ کی سہولیات پر فوڈ سیفٹی سسٹم کا جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی۔ ان دو کمپنیوں سے منسلک ریسٹورنٹس میں یہ مصنوعات جلد ہی دستیاب ہوں گی۔دونوں کمپنیوں کو پہلے نومبر میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کلیئر کیا تھا ، پھر گزشتہ ہفتے USDA نے ان کے پروڈکٹ لیبلز کو کلیئر کر دیا تھا۔اپسائیڈ فوڈز کی سی ای او اور بانی اوما والیتی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منظوری بنیادی طور پر اس بات کو بدل دے گی کہ گوشت ہماری میز پر کیسے آتا ہے۔ یہ زیادہ پائیدار مستقبل کی طرف ایک بڑا قدم ہے جو انتخاب اور زندگی کو محفوظ رکھتا ہے۔GOOD Meat کے شریک بانی اور سی ای اور جوش ٹیٹرک نے بتایا کہ ہماری کمپنی 2020 میں سنگاپور میں لانچ ہوئی اور اب یہ دنیا میں کہیں بھی لیب میں تیار گوشت فروخت کرنے والی واحد کمپنی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…