پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی نے اسد عمر کے نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹر ویو کے نکات کو مسترد کر دیا

datetime 21  جون‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف نے اسد عمر کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ انہوں نے چیئرمین عمران خان کی تصادم پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے پارٹی کا عہدہ چھوڑا۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن کی جانب سے بیان پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل اسد عمر کے ایک نجی نیوز چینل کو انٹر ویو کے بعد سامنے آیا ہے ۔اسد عمر نے 24 مئی کو اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پارٹی عہدے فوری طور پر چھوڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں 9 مئی کو پیش آنے والے واقعات کے بعد ان کے لیے پارٹی میں کام جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔پی ٹی آئی نے اسد عمر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسد عمر کے جب پارٹی یا پارٹی سربراہ سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور وہ عملدرآمد کرنا مناسب نہ سمجھتے تھے تو وہ اسی وقت خود کو پارٹی سے الگ کر سکتے تھے۔سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن نے کہا کہ یہ صورتحال حقیقت سے متصادم ہے، اب جب ایک منصوبہ بندی کے تحت پارٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو انہیں پارٹی سے استعفیٰ دینا یاد آیا، اس میں ان کا ذاتی مفاد تو چھپا ہو سکتا ہے پارٹی کا نہیں۔انہوں نے اسد عمر کے اس دعوے پر بھی اعتراض کیا کہ پی ٹی آئی نے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسد عمر خود یہ موقف اپنایا کرتے تھے کہ یہ جماعتیں قومی مفاہمتی آرڈیننس کے علاوہ کسی اور چیز پر کبھی بات نہیں کریں گی، اپنی کرپشن اور چوری کی معافی کے علاوہ ان سیاسی جماعتوں کا کوئی دوسرا ہدف نہ پہلے تھا نہ آج ہے۔رئوف حسن نے اپریل میں دونوں فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان ڈیل کو حتمی شکل دینے کے بارے میں سابق وزیر کا ابہام غیر واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئین کی حدود میں رہ کر غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا، اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے حتمی حل کی ضمانت کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز پیش کی۔اس لیے اسد عمر اپنے ناقابل دفاع فیصلے کی توجیہات پیش کریں لیکن حقائق کو مسخ کرنے سے گریز کریں۔ترجمان نے کہا کہ اسد عمر پارٹی پر مشکل وقت پڑنے سے قبل ایک اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے علیحدگی کا فیصلہ کرتے تو شاید اس میں وزن ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…