منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جماعت اسلامی کی پانامہ لیکس بارے درخواست، سپریم کورٹ نے 9 سوالات اٹھا دیئے

datetime 15  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس میں 436 پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تحقیقات کیلئے دائر جماعت اسلامی کی درخواست پر نو سوالات اٹھادیئے، نو جون کی سماعت کے تحریری حکمنامے میں پوچھا گیا ہے کہ کیوں اور کن حالات میں باقی پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق اس کیس کو پانامہ کے مرکزی کیس سے الگ کیا گیا تھا۔

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جماعت اسلامی کی درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر پہلے ہی 2016 میں پانامہ لیکس کی روشنی میں دائر تمام درخواستوں کو قابل سماعت نہ قرار دیا جا چکا ہوتا تو جماعت اسلامی کی درخواست قابل سماعت ہے بھی یا نہیں یہ سوال بھی اٹھ سکتا تھا تاہم اب سوالات یہ ہیں کہ کیا بیرون ملک جائیدادوں کا معاملہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت نہیں آتا؟

کیاٹیکس واجبات کی ادائییگی ایف بی آر افسران کے اختیار میں نہیں آتی؟کیا بیرون ملک جائیدادوں کی خرید کیلئے بھیجی گئی رقوم اسٹیٹ بینک اور فارن ایکسچینج مینوئل سے متعلقہ نہیں؟کیا ایف بی ار اور اسٹیٹ بینک کے پاس ان معاملات پر از خود فیصلوں کا نظام موجود نہیں؟کیا درخواست گزار نے اسٹیٹ بینک،ایف بی آر،ایف آئی اے اور دیگر اداروں سے رجوع کیا؟

کیا متعلقہ اداروں کی موجودگی میں ان معاملات پر انکوائری کیلئے کیا الگ سے کمیشن بنایا جانا چاہئے؟اور کیاالگ سے کمیشن قائم کرنے سے کیا متعلقہ اداروں کا کام متاثر نہیں ہوگا؟کیا 436 افراد کو نوٹس کیے بغیر کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے؟ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہجماعت اسلامی کے وکیل نے معاونت کیلئے وقت مانگا اس لئے مقدمے کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…