جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سمندری طوفان کے خدشات، 36 خطرناک قرار دی گئی عمارتیں خالی کرا لی گئیں

datetime 14  جون‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)سمندری طوفان کے خدشات کے پیش نظر کراچی کے ضلع جنوبی میں 36خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی غلام مرتضی شیخ نے اطلاع دی ہے کہ سمندری طوفان کی آمد سے قبل خطرناک قرار دی گئی چھتیس عمارتیں خالی کرا لی گئی ہیں، خطرناک قرار دی گئی عمارتوں میں واقع دکانوں کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ڈی ایچ اے فیز 8 میں ساحل پر قائم تمام ریسٹورنٹس کو بھی مکمل بند کر دیا گیا ہے، ضلع جنوبی میں زیر تعمیر عمارتوں کا کام بھی رکوا دیا گیا ہے۔ڈی سی جنوبی کے مطابق آرم باغ، صدر، لیاری، گارڈن، اور سول لائن میں 3 شیلٹر ہاس قائم کیے گئے ہیں، اور ضلع جنوبی کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔واضح رہے کہ کمشنر کراچی اقبال میمن نے ڈپٹی کمشنرز کو مخدوش عمارتوں کو سیل کرنے کے احکامات کر دیے ہیں،

ایس بی سی اے کی جانب سے کراچی میں 578 مخدوش عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جس پر کمشنر کراچی نے احکامات دیے ہیں کہ مخدوش عمارتوں کو رہائش پذیر افراد سے خالی کرایا جائے، اقبال میمن نے کہا جو مخدوش خالی عمارتیں ہیں ان کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے۔ایس بی سی اے نے کمشنر کراچی کو مخدوش عمارتوں کی فہرست بھی فراہم کر دی، ضلع غربی میں 2، ضلع ملیر میں 4، ضلع شرقی میں 12 مخدوش عمارتیں ہیں، ضلع کورنگی میں 14، ضلع وسطی میں 66، ضلع کیماڑی میں 23، اور ضلع جنوبی میں 456 عمارتیں مخدوش قرار دی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…