پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

مہندرا سنگھ دھونی مثالی کھلاڑی ہیں، انکی طرح بننا چاہتا ہوں’سرفراز احمد

datetime 14  جون‬‮  2023 |

لندن( این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد نے اپنے کیریئر میں اتار چڑھا پر کھل کر اظہار کرتے ہوئے مشکل سوالات کے دلچسپ جوابات دیئے ۔ سرفراز احمد نے امریکہ میں میٹ اینڈ گریٹ پروگرام میں شرکت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستان اور بھارتی کرکٹرز کے تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں، ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان سیریز زیادہ ہوتی تھیں جس سے تعلقات اچھے رہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب صرف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی )کے ایونٹس میں ملتے ہیں، چیمپئنز ٹرافی 2017ء ایک ایسا لمحہ ہے جسے پانا ہر پلیئر کی خواہش ہوتی ہے۔سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ اللہ پاک نے ہمیں اس بہترین اچیومنٹ کے لیے چنا جس کے بے حد شکر گزار ہیں، دعا ہے کہ پاکستان کو دوبارہ ایسا موقع ملے اور وہ میگا ایونٹ کی ٹرافی جیت کر آئے۔سابق کپتان نے کہا کہ جب کرکٹ شروع کی تو معین خان آئیڈیل تھے ان کو فالو کیا، سابق بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی مثالی کھلاڑی ہیں، ان کی طرح بننا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ سلمان خان پسندیدہ اداکار ہیں اور کترینہ کیف کا فین ہوں، کالج والے ہم تھے ہی نہیں، میٹرک تک بہترین پڑھائی کی ہے، فرسٹ ایئر کی تیاری نہیں تھی، پھرے لے کر پیپر دینے گیا مگر نکالنے کا موقع نہیں ملا اور پیپر چھوڑ کر واپس آ گیا۔سرفراز احمد نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹ کی پہلی نوکری کی تنخواہ 4600 روپے ملی تھی، بچپن میں جب پریکٹس پر جاتا تھا تو آئسکریم اور بریانی کھانے کے لیے والد صاحب کی جیب سے پیسے نکال لیا کرتا تھا اب اسے چوری کہیں یا جو بھی۔انہوں نے کہا کہ گھر میں دین کا رجحان زیادہ تھا، پڑھنے کے بجائے کھیلنے پر والد سے بہت مار کھائی ہے۔

پاکستان میں جو لوگ پیار کرتے ہیں وہ کھل کر تعریف بھی کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کوئی پلیئر نہیں چاہتا کہ وہ جان بوجھ کر خراب پرفارمنس دے، سب کے پاس موبائل ہے سوشل میڈیا پر ہر شخص اپنا چورن بیچ رہا ہے۔سابق کپتان نے یہ بھی کہا کہ زندگی کے بہترین لمحے بہت سارے ہیں لیکن ملک کے لیے انڈر 19 ورلڈ کپ جیتنا اور چیمپئنز ٹرافی کا فاتح بننا گولڈن لمحہ ہے، پرسنل پرفارمنس میں لارڈز کی سنچری، 2015 ورلڈ کپ میں جنوبی افریقا کے خلاف کم بیک، آخری ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں سنچری زندگی کی زبردست یادیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…