جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

لیپ ٹاپ، موبائل اور دیگر کمپیوٹر آلات مہنگے نہ ہونے کا امکان

datetime 10  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے 9 جون کو مالی سال 24-2023 کے لیے 145 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا جس میں نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے تھے، تاہم بعض ٹیکسز میں اضافے کا علان کیا گیا۔حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کو ریلیف دینے کے لیے اسے ’اسمال اینڈ میڈیم سائزڈ انٹرپرائزز‘ (ایس ایم ایز) کا درجہ دینے کا اعلان کیا اورآئی ٹی سیکٹر پر نئے اور اضافی ٹیکس کا بھی اعلان نہیں کیا۔

رواں مالی سال میں موبائل اور کمپیوٹر آلات سمیت انٹرنیٹ کے آلات پر کوئی نیا اور اضافی ٹیکس نہ لگائے جانے کے باعث امکان ہے کہ رواں سال ان کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے لیپ ٹاپس، پرسنل کمپیوٹرز (پی سیز) ملٹی میڈیا اسکرینز، نوٹ بکس، انٹرنیٹ راؤیٹرز سمیت موبائل و کمپیوٹر آلات پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔علاوہ ازیں حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود کمپیوٹر و موبائل آلات کے ٹیکسز میں اضافہ بھی نہیں کیا، تمام آلات پر نافذ پہلے ٹیکس کو ہی جاری رکھا ہے، جس وجہ سے امکان ہے کہ ان کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی۔

علاوہ ازیں بجٹ دستاویزات کے مطابق اسمبل کیے گئے موبائل و کمپیوٹر آلات پر بھی کوئی نیا اور اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا ساتھ ہی اسمارٹ موبائل فونز کی امپورٹ پر بھی کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔موبائل و کمپیوٹر آلات کی امپورٹ پر پہلے سے نافذ ٹیکس کو برقرار رکھا ہے، علاوہ ازیں آئی ٹی کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے اسے اسمارٹ میڈیم بزنس کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ اس شعبے کو ٹیکس میں مزید آسانی ہو۔بجٹ میں کمپیوٹر و موبائل آلات پر نئے اور اضافی ٹیکسز نہ لگائے جانے سے اگرچہ ان کی قیمتیں نہ بڑھنے کا امکان ہے، تاہم ڈالرز کے ریٹ میں دن بہ دن ہونے والے اضافے کی وجہ سے صارفین آلات کو بھاری قیمت پر خریدنے پر مجبور رہیں گے۔

گزشتہ روز بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے حکومتی عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ٹی کے شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کو 20 فیصد رعایتی ٹیکس کا استفادہ بھی ہوگا۔انہوں نے بتایا تھا کہ آئی ٹی اینڈ آئی ٹی ان ایبل سروسز فرمز اپنی برآمدات کے ایک فیصد کے برابر مالیت کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر بغیر ٹیکس کے درآمد کرسکیں گے، ان درآمدات کی حد 50 ہزار ڈالر سالانہ مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگلے مالی سال میں ملک بھر میں 50 ہزار ا?ئی ٹی گریجویٹس کو پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…