منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سویلین کیسز ملٹری کورٹ میں چلانے کیلئے آئین کی تشریح کی ضرورت ہے، پشاور ہائی کورٹ

datetime 8  جون‬‮  2023 |

پشاور(این این آئی) پشاور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سویلین کیسز ملٹری کورٹ میں چلانے کیلئے آئین کی تشریح کی ضرورت ہے۔فوجی تنصیبات پر حملے میں ملوث ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں پر جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔

نجی ٹی وی کے مطابق دوران سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دئیے کہ آرمی آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں تو کورٹ مارشل ہوتا ہے، سویلین کے کیسزآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیسے چلائے جاسکتے ہیں؟ ان مقدمات میں آئین کی تشریح کی ضرورت ہے، فریقین تیاری کر لیں، 13 جون کو کیس دوبارہ سنیں گے۔وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کیخلاف 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے مقدمات میں نامزد 7 ملزموں کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا گیا ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق سویلین کے مقدمات ملٹری کورٹ میں نہیں چلائے جاسکتے ہیں، سویلین کے مقدمات ملٹری کورٹ میں چلانے کے لیے ایکٹ میں ترمیم کرنا ہوگی۔درخواست میں کہا گیا کہ مقدمات میں آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 3 کو شامل کیا گیا ہے جبکہ عام شہریوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنا غیر قانونی ہے اور یہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہے بلکہ انٹرنیشنل قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

درخواستگزار کے وکیل کے مطابق 23 ویں ترمیم کے بعد سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہوسکتا۔سرکاری وکیل نے دوران سماعت کہا کہ پہلے ہی ایف آئی آر میں آرمی ایکٹ شامل نہیں ہے، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر آفیسر اپنی رائے دے چکا ہے۔بعدازاں عدالت نے وکلاء کو کہا کہ تیاری کریں 13 جون کو اس کیس کو دوبارہ سنیں گے اور کیس کی مزید سماعت 13 جون تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…