لاہور( این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 9مئی کے واقعات میں لیڈرز کو پتلی گلی سے نکال رہے ہیں ، کارکنان کا کیا قصور ہے ، انہیں بھی موقع دیں ،طاقت نواز شریف کے ہاتھ میں ہے، بجٹ اور عمران خان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے ،زرداری والی سیاست نواز شریف اور عمران خان کو نہیں آتی نہ آسکتی ہے
دو گھریلو خواتین آپس میں بات کر رہی ہیں اور اس کی آڈیو منظر عام پر آ گئی ، مسلم لیگ (ن) کے خلاف کوئی آڈیو ، ویڈیو نہیں آرہی ۔اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ9مئی کو اتنے بڑے واقعات ہوگئے کہیں پولیس نہیں پہنچی، میانوالی میں ایم ایم عالم کا جہاز جل گیا کسی کو پتہ ہی نہیں چلا،جب 9مئی کے واقعات ہوئے آئی جی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کہاں تھے؟ کہتے ہیںلوگ 2:37پر زمان پارک سے نکلے، 3:36پر لبرٹی چوک پہنچے، 3:41پر وہاں سے چلے اور 4:56پر جناح ہائوس پہنچ گئے
کہا جارہا ہے کہ 5:51پر بڑا جتھہ آیا، 6:07منٹ پر آگ لگائی گئی، اتنی مانیٹرنگ آپ نے کی، آپ نے اتنی مانیٹرنگ کی آپ کیوں نہیں پہنچے کس نے روکا تھا اتنا کچھ ہوگیا اور آئی جی کا ابھی تک تبادلہ نہیں کیا گیا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ دو گھریلو خواتین آپس میں بات کررہی ہیں اور اس کی آڈیو منظرعام پر آگئی ،(ن) لیگ کے خلاف کوئی آڈیو ویڈیو نہیں آرہی یہ سوچنے کی بات ہے۔
انہوںنے کہا کہ ایک اور آڈیو آئی جس میں عجیب بات کہی گئی ہے کہ اعتزاز احسن بلاول ہائوس گیا تو انہیں دروازے سے ہی واپس بھیج دیا گیا، وہاں میڈیا چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے، بڑے معتبر لوگوں نے یہ بات چلائی ہے اگر میرے ساتھ ایسا ہوا ہے تو ویڈیو سامنے آنی چاہیے اور اگر کوئی ویڈیو نہیں ہے تو اس خبر کو چلانے والے اپنی اصلاح کرلیں۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کا کام غیر جانبدار رہنا ہوتا ہے ، چوہدری پرویز الٰہی کو ایک جج نے بری کیا مگر نگران وزیر اطلاعات اسی جج کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔
انہوںنے کہا کہ سیاستدانوں اور فوج کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا گیا ، فوجی عدالتوں کے حوالے سے آرمی چیف کو قانون کا نہیں بتایا جا رہا، سپریم کورٹ نے دو کیسوں میں کہا کہ ہمارے قانون کے مطابق فوجی عدالت نہیں لگ سکتی۔انہوں نے کہا کہ دسمبر 2016 میں آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ ہوگیا جہاں بچوں کو بے دردی سے مارا گیا اس کے بعد فوجی عدالتیں بنائی گئیں جن کے لیے آئینی ترمیم کی گئی جو 2019 میں ختم ہو چکی تھی لیکن اب اگر فوجی عدالت لگائی گئی تو تصادم کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے
فوجی عدالتوں کی جگہ انسداد دہشتگری کی عدالتوں کا قیام سپریم کورٹ کی منظوری سے کیا گیا، یہ مقدمات فوجی عدالتوں کی بجائے انسداد دہشت گری عدالت میں چلنے دیں جن کا سات روز میں فیصلہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کوانتخابات ایک دن کرانے پر اتفاق کرنے کو کہا جارہا ہے، ایک آئین اور قانون موجود ہے چیف جسٹس صاحب یہ نہیں ہوسکتا، اب آپ کوتاہی نہ کریں اب تاریخ دیں جو بھی دینی ہے
مولانا فضل الرحمان یا کسی سے بھی پوچھیں وہ کہتے ہیں آئین کے نوے دن ختم ہو گئے اب کیا ہوگا؟ مطلب ایک قتل کرلیا تو دوسرے قتل کی اجازت دے دی جائے؟۔اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کہتے ہیں الیکشن اکتوبر سے آگے جا سکتے ہیں لیکن آئین کے مطابق نہیں جا سکتے، ایک دن الیکشن کے انتظار میں کسی صوبے کو حکومت کے بغیر نہیں چھوڑا جاسکتا، سپریم کورٹ کو بتانا چاہیے کہ ایک دن والی بات قانون میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو کوئی مشورہ نہیں دیتا، عمران خان کے جتنے بھی ووٹ ہیں وہ نہیں ٹوٹے اور مریم نواز ان کے ووٹوں میں مزید اضافہ کریںگی، عمران خان کو مریم کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔انہوںنے کہا کہ 9 مئی کو اتنے بڑے واقعات ہو گئے لیکن کسی ایک کو معطل نہیں کیا گیا، موجودہ حکومت میں نواز شریف، شہباز شریف، خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ براہ راست ملوث ہیں یہ مچان پر بیٹھے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس جو وزارتیں ہیں وہ بہت اچھا کام کررہی ہیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو پر اس کو ثابت کرنا ممکن نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی 140اراکین قومی اسمبلی کو لے کر باہر آنا تھااگر یہ لوگ وہاں بیٹھے ہوتے تو آج گیم کچھ اور ہوتی ،اپنے اراکین کو نکال کے نہ وہ طاقت رہی نہ مقام رہا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختوانخواہ اسمبلی تحلیل کرنے میں تاخیر کی اور (ن)لیگ والوں نے بھی اس معاملے پر بڑی سیاست کی
(ن) لیگ والوں نے اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے عمران خان کو ایموشنل کیا تھا۔انہوںنے کہا کہ طاقت نواز شریف کے ہاتھ میں ہے، نواز شریف کی اجازت کے بغیر مالیاتی ادارے سے کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا، بجٹ اور عمران خان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے جب کہ مریم نواز نے جو کچھ کہا اس کو منوایا گیا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ سیاست سے کوئی آئوٹ نہیں ہوگا، ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی جماعت تین دفعہ طاقت میں آئی
نواز شریف نے جو نشانہ دیا ہوا تھا ہر وار اس پر ہوا ہے اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ فائدہ نواز شریف کو حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے کمال کی سیاست کی، شہباز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو کو شہید تسلیم کیا ہے ،یہ آصف علی زرداری کا ہی کمال ہے، شہباز شریف نے تین بار شہید ذوالفقار علی بھٹو کہا، زرداری والی سیاست نواز شریف اور عمران خان کو نہیں آتی نہ آسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست میں آج کا دہشتگرد کل ہیرو بن جاتا ہے، مجھے بھی دہشتگرد کہا گیا میں بعد میں وزیر بن کر معتبر ہوگیا، پاکستان میں ماضی کے سوا کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی ،یہاں مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں کر سکتا۔



















































