جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کا سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے پر غور

datetime 3  جون‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی وقت کی ضرورت ہے اور حکومت اس کے لئے وسائل مختص کر رہی ہے ،ملک میں کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہی ہے،مالی مشکلات کے باوجود حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے ایکسپو سینٹر لاہور میں دوسری انٹرنیشنل سولر انرجی میٹ ایکسپو اورآئی آر ای ایم آئی ای ای ای پی ایکسپو کا افتتاح کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا کہ حکومت کلین اینڈ گرین انرجی سلوشنز کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ یہ تقریب قابل تجدید اور ہوا کی توانائی کے مستقبل کی طرف ایک قدم ہے جس سے صارفین کی بجلی کی قیمت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جلد ہی ملک میں سولر پینلز کی تیاری کے لیے ایک پروجیکٹ شروع کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی نمائشیں پاکستان میں کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ صاف اور سبز توانائی کے ہدف کے حصول کی طرف بہت آگے جا سکتی ہیں۔

پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر ثانیہ اویس نے کہا کہ کمرشل اور گھریلو صارفین پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ چیئرمین وائٹ پیپر سمٹ احمد صالح بابودنے کہا کہ اس طرح کی نمائشیں پاکستان میں توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکسپو عالمی اور مقامی اسٹیک ہولڈرز، ایگزیکٹوز، معروف صنعت کے ماہرین، مینوفیکچررز اور سپلائرز، فیصلہ سازوں، پالیسی سازوں اور حکومتی اہلکاروں کے لیے ایک مثالی ملاقات کی جگہ ہے جو پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے کے مستقبل کو تشکیل دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…